منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ نے لنڈسی گراہم کو ایران سے نئے معاہدے کی تیاری کی ذمہ داری سونپ دی

datetime 3  اگست‬‮  2019 |

لندن(این این آئی)امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگرس کے رکن اور سینیٹ میں قانون ساز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر لنڈسی گراہم کو ایران کے ساتھ نئے معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ یہ نیا مسودہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے سمجھوتے کا متبادل ہو گا جس سے امریکا نے مئی 2018ء کو علیحدگی اختیار کر لی تھی۔لینڈسی گراہم امریکی انتظامیہ کے

دیگر اہم عہدیداروں کے ساتھ اس وقت رابطے میں ہیں جو مشرق وسطیٰ سابق صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے کا متبادلہ سمجھوتہ تیار کر رہے ہیں۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر نئے سمجھوتے کے لیے کی جانے تیاریوں کے بارے میں وائٹ ہائوس کے چار اہم عہدیداروں نے انکشاف کیا ۔ان میں سے دو ذرائع کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ نئے معاہدے کے لیے بیرون ملک سے بھی تجاویز لی جا رہی ہیں۔خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میں لنڈسی گراہم کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ایران کے حوالے سے امریکی صدر کی موجودہ پالیسی میں گراہم کا اہم کردار رہا ہے۔ کانگرس اور وائٹ ہائوس کے ساتھ ساتھ امریکا کی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع بھی اپنے اپنے طور پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان نئے سمجھوتے کی کوشش کر رہی ہیں۔کانگرس کے بعض ارکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی دونوں ملکوں میں فوجی محاذ آرائی کا موجب بن سکتی ہے۔ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کے ماہرین کا تہران کے ساتھ مذاکرات کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ سابق صدر براک اوباما کے دور میں ان کی انتظامیہ میں شامل رہنے والے بعض عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا ایران پر عاید کی گئی پابندیوں میں نرمی نہیں کرے اس وقت تک ایران مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوگا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ امریکی وزارت خزانہ نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو بلیک لسٹ کر کے مذاکرات کے امکانات مزید کم کر دیے ہیں۔امریکی صدر کی انتظامیہ میں شامل بعض دوسرے عہدیدار بھی سینیٹر لنڈسی گراہم کے ساتھ مل کر ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر تہران کے ساتھ نئے سمجھوتے کا مسودہ تیار کر رہے ہیں۔لنڈسی گراہم امریکی سینیٹ کے ایران

کے حوالے سے دوٹوک موقف رکھنے والے رکن ہیں۔ جون میں کانگرس کے ایک بند کمرہ اجلاس کے دوران مسٹر گراہم نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی فوجی محاذ آرائی کی طرف جا رہی ہے۔امریکی اخبار کے مطابق گراہم کے نئے منصوبے میں امریکا پر زور دیا گیا کہ وہ ایران سے معاہدہ123 میں شامل ہونے کا مطالبہ کرے۔ اس معاہدے میں اب تک 40 ممالک شامل ہیں جنہوں نے امریکا کو جوہری عدم پھیلائو کی یقین دہائی کرائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…