بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیرمیں پوسٹنگ کاخوف بھارتی آرمی آفیسر نے خودکشی کر لی

datetime 1  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی(آئی این پی) دہلی کے ریلوے ٹریک سے ملنے والی لاش کی شناخت کیپٹن دیواکر پوری کے نام سے ہو گئی۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق موت کے گھاٹ اترنے والا یہ افسر بھارتی آرمی کے میڈیکل کور کا ملازم تھا اور دہلی کا رہنے والا تھا۔ اس کی لاش ریلوے ٹریک پر گزشتہ روز صبح 11بج کر 20منٹ پر ملی، اس سے کچھ دیر قبل ہی شتابادی نامی ٹرین وہاں سے گزری تھی۔کیپٹن دیواکر نے حال ہی میں لکھنو میں ایک ٹریننگ میں شرکت کی تھی اور شرم جیوی ایکسپریس سے واپس گھر لوٹ رہا تھا، اس نے صبح 5بج کر 45منٹ پر ٹرین لی تھی۔یہ

بھی بتایا جارہا ہے کہ کیپٹن پوری کی پوسٹنگ بھارتی مقبوضہ جموں اور کشمیر کے علاتے پلواما میں کردی گئی تھی جس کے سبب وہ خوش نہیں تھا اور وہاں نہیں جانا چاہتا تھا۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایک ریلوے مسافر نے کیپٹن کو پرانے دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر اٹھایا، اور وہ جلدی میں اپنا سامان وہیں بھول گیا۔ بعد وہ سامان ریلوے پروٹیکشن فور س کے پاس جمع کرادیا گیا تھا۔پولیس کو اپنی ابتدائی تفتیش سے یہ خودکشی کا کیس لگ رہا ہے تاہم معاملے کے دیگر پہلو بھی مدنظر رکھے جارہے ہیں۔ مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے جس کی رپورٹ آنے پر ہی تحقیق کی گاڑی آگے بڑھے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…