منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

کیا واقعی بھارتی وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالث بننے کا کہا تھا؟ بھارت میں ہنگامہ، نریندر مودی پر قوم کو ”دھوکہ“ دینے کا الزام لگ گیا

datetime 23  جولائی  2019 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر کا بیان سچ ہے تو نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور 1972 کے شملا معاہدے کے ساتھ دھوکا دہی کی۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن پارٹی کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ’صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے کشمیر سے متعلق بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ سچ ہے تو وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور 1972 کے شملا معاہدے کے ساتھ دھوکا دہی کی ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ ’ایک کمزور وزارت خارجہ کا انکار کافی نہیں، وزیراعظم کو لازمی طور پر قوم کا بتانا چاہیے کہ ان کے اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کیا بات چیت ہوئی۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس نے لوک سبھا میں بھارتی وزیراعظم سے ٹرمپ کے بیان پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔راہول گاندھی کی والدہ سونیا گاندھی نے اس بیان کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا اور پارٹی رہنماؤں کو پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اس وقت تک اٹھانے کی ہدایت کی ہے جب تک نریندر مودی کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آجاتا۔سماج وادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو نے ٹوئٹ کیا کہ ’کشمیر سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دعووں پر بھارتی وزیراعظم کی جانب سے واضح اور موثر جواب کی ضرورت ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’امریکی صدر کا بیان ماضی کے معاہدوں کی خلاف ورزی اور ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی پر سوال ہے، تمام بات چیت کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے‘۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان عمران خان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے کہا گیا تھا۔امریکی صدر نے کہا تھا کہ‘دو ہفتے قبل میری وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کہ کیا آپ مصالحت کار یا ثالث بننا چاہیں گے تو میں نے پوچھا کہاں، جس پر انہوں نے کہا کہ کشمیر کیونکہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے ہے’۔

بعدازاں بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے درخواست نہیں کی۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ٹویٹر میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ‘ہم نے پریس میں صدر ٹرمپ کا بیان دیکھا ہے کہ اگرمسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان درخواست کرتے ہیں تو وہ ثالثی کے لیے تیار ہیں، اس طرح کی کوئی درخواست نریندر مودی نے امریکی صدر سے نہیں کی’۔ان کا کہنا تھا کہ‘یہ بھارت مستقل موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت صرف دو طرفہ ہوگی’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…