بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کیا واقعی بھارتی وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالث بننے کا کہا تھا؟ بھارت میں ہنگامہ، نریندر مودی پر قوم کو ”دھوکہ“ دینے کا الزام لگ گیا

datetime 23  جولائی  2019 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر کا بیان سچ ہے تو نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور 1972 کے شملا معاہدے کے ساتھ دھوکا دہی کی۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن پارٹی کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ’صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے کشمیر سے متعلق بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ سچ ہے تو وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور 1972 کے شملا معاہدے کے ساتھ دھوکا دہی کی ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ ’ایک کمزور وزارت خارجہ کا انکار کافی نہیں، وزیراعظم کو لازمی طور پر قوم کا بتانا چاہیے کہ ان کے اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کیا بات چیت ہوئی۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس نے لوک سبھا میں بھارتی وزیراعظم سے ٹرمپ کے بیان پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔راہول گاندھی کی والدہ سونیا گاندھی نے اس بیان کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا اور پارٹی رہنماؤں کو پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اس وقت تک اٹھانے کی ہدایت کی ہے جب تک نریندر مودی کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آجاتا۔سماج وادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادو نے ٹوئٹ کیا کہ ’کشمیر سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دعووں پر بھارتی وزیراعظم کی جانب سے واضح اور موثر جواب کی ضرورت ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’امریکی صدر کا بیان ماضی کے معاہدوں کی خلاف ورزی اور ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی پر سوال ہے، تمام بات چیت کا ریکارڈ رکھنا ضروری ہے‘۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان عمران خان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے بھی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے کہا گیا تھا۔امریکی صدر نے کہا تھا کہ‘دو ہفتے قبل میری وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کہ کیا آپ مصالحت کار یا ثالث بننا چاہیں گے تو میں نے پوچھا کہاں، جس پر انہوں نے کہا کہ کشمیر کیونکہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے ہے’۔

بعدازاں بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے درخواست نہیں کی۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ٹویٹر میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ‘ہم نے پریس میں صدر ٹرمپ کا بیان دیکھا ہے کہ اگرمسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان درخواست کرتے ہیں تو وہ ثالثی کے لیے تیار ہیں، اس طرح کی کوئی درخواست نریندر مودی نے امریکی صدر سے نہیں کی’۔ان کا کہنا تھا کہ‘یہ بھارت مستقل موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت صرف دو طرفہ ہوگی’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…