بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اردن بدستور اسرائیل ، فلسطین تنازع کے دوریاستی حل کا حامی

datetime 30  مئی‬‮  2019 |

عمان(این این آئی)اردن نے اسرائیلی ،فلسطینی تنازع کے دوریاستی حل کی حمایت کا ا عادہ کیا ہے اور اس طرح اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حل سے ماورا کسی امن منصوبے کی حمایت نہ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں آئندہ ماہ ہونے والی مجوزہ فلسطین کانفرنس کے لیے خطے کے ممالک کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔صدر ٹرمپ کے مشیر اور

داماد جیرڈ کوشنر اور مشرقِ اوسط کے لیے خصوصی ایلچی جیسن گرین بلاٹ نے عمان میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی ہے۔اردن کی سرکاری خبررساں ایجنسی بطرا کے مطابق دونوں فریقوں نے خطے میں ہونے والی پیش رفت اور بالخصوص فلسطینی ، اسرائیلی تنازع کے حل کے لیے کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔شاہ عبداللہ دوم نے تنازع کے دوریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کا یہ موقف صدر ٹرمپ کی اب تک صیغہ راز میں ’’ صدی کی ڈیل‘‘ سے متصادم نظر آتا ہے۔اردن امریکا کا خطے میں اہم اتحادی ملک خیال کیا جاتا ہے لیکن اس نے ابھی تک 25 اور 26 جون کو منامہ میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت یا عدم شرکت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔فلسطینی حکومت نے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس سے اس ضمن میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔وہ ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ مشرقِ اوسط امن منصوبے کو بھی مسترد کرچکی ہے۔جیرڈ کوشنر مراکش سے عمان پہنچے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے قیام کے لیے معاشی اساس پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور اس میں فلسطینی ریاست ایسے بنیادی سیاسی امور پر غور نہیں کیا جائے گا۔گرین بلاٹ اور کوشنر نے رباط میں مراکش کے شاہ محمد ششم سے ملاقات کی تھی اور ان سے مراکش کی منامہ میں ہونے والی مجوزہ امن کانفرنس کے لیے حمایت پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔تاہم مراکشی حکام نے مسٹر کوشنر کے دورے کے حوالے سے کسی تبصرے سے انکار کیا ہے۔واضح رہے کہ اردن کا امریکا سے ملنے والی سیاسی اور فوجی امداد پر انحصار ہے ،اس لیے اس کے لیے منامہ کانفرنس کے دعوت نامے کو مسترد کرنا مشکل ہوگا لیکن فلسطین نژاد کثیر آبادی کی مخالفت کے پیش نظر اس کے لیے ایسے کسی امن منصوبے کو قبول کرنا مشکل ہوگا جس میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت ہی نہ دی گئی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…