منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

حوثیوں کے ہاتھوں امدادی سامان کی لوٹ مار، عالمی ادارہ خوراک کا سخت انتباہ

datetime 21  مئی‬‮  2019 |

جنیوا(این این آئی)عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا کے ہاتھوں امدادی سامان کی لوٹ اور غبن کے بڑھتے واقعات کے باعث حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں میں امدادی کارروائیاں بند ہونے کا اندیشہ ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق

عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے جاری کردہ ایک مکتوب میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امداد دینے والے ممالک حوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کے حوالے سے مایوس ہیں۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے قبضے میں آنیوالے علاقوں میں امداد مستحق لوگوں تک نہیں پہنچ رہی ہے۔عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ پیزلی کی طرف سے حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے چیئرمین مھدی المشاط کو ارسال کردہ انتباہی مکتوب میں خبردارکیا گیا ہے کہ لوٹ مار کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو امدادی آپریشن آگے نہیں بڑھ سکتا۔امدادی پروگرام کے ترجمان نے جنیوا میںاے ایف پی کو بتایا کہ عالمی ادارے کی طرف سے حوثیوں کو گذشتہ برس دسمبر کیبعد اپنی نوعیت کا یہ دوسرا انتباہی مکتوب ہے۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ خوراک کو امدادی سامان کی لوٹ مار اور مستحق شہریوںکو محروم رکھے جانے سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ حوثیوں کیزیرقبضہ علاقوں میں امدادی سامان کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور غبن کی خبروںنے امدادی آپریشن کو متاثر کیا۔پیزلی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران حوثی جنگجوئوں کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوںکی وجہ سے بھی امدادی آپریشن آگے نہیں بڑھایا جاسکا۔عالمی ادارے کے مطابق اس وقت یمن میں جنگ کے باعث 33 لاکھ شہری بے گھر ہیں۔ یمن کے دو کروڑ 41 لاکھ افراد جو آبادی کا دو تہائی ہے کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…