منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

خاشقجی کے قتل پر ان کی منگیتر کا امریکی کانگریس سے نئی عالمی تحقیقات کا مطالبہ

datetime 18  مئی‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی )استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ نے کہاہے کہ انہیں یقین نہیں آتا کہ اب تک اس گھناؤنے جرم کا کسی کو بھی نتیجہ نہیں بھگتنا پڑا ہے۔ترک نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے سامنے بات کرتے ہوئے خدیجہ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دنیا نے اس بارے میں

اب تک کچھ کیوں نہیں کیا ہے۔صحافی کے قتل پر انہوں نے امریکی کانگریس سے نئی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے کہا تھا کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا، تاہم 7 سے 8 ماہ بعد بھی ہمیں کچھ نہیں نظر آرہا جس کی وجہ سے میں آج یہاں آئی ہوں۔انہوں نے جذباتی لہجے میں کہا کہ مجھے اب تک سمجھ نہیں آتی، مجھے اب بھی لگتا ہے کہ میں بیدار ہوں گی، کیا اس طرح امریکی اقدار کا بھی قتل نہیں ہوگیا ہے؟ان کی منگیتر نے امریکا سے سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کی آزادی کے لیے پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آج بھی نہیں معلوم کہ انہیں کیوں قتل کیا گیا، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے باقیات کہاں ہیں۔امریکی حکام نے جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری سعودی حکومت کے اعلیٰ عہدیداران پر عائد کی تھی۔جمال خاشقجی کی منگیتر کا کہنا تھا کہ وہ امریکا اس امید کے ساتھ آئی ہیں کہ ان کے منگیتر کے قتل پر ردعمل دینے میں امریکا ان کی مدد کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی تھی، تاہم وہ اس لیے نہیں آئیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل پر بھروسہ نہیں رکھتی تھیں۔ذیلی کمیٹی کو انہوں نے بتایا کہ ہمیں دو چیزوں میں سے ایک کو چننا ہوتا ہے، یا تو ہم ایسا سوچ لیں کہ جیسے کچھ نہیں ہوا یا ہم اپنے مفادات، عالمی مفادات اور سیاست کو ایک طرف رکھ کر بہتر زندگی کے لیے اپنی اقدار پر توجہ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کے لیے امتحان ہے جس میں اسے کامیاب ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…