منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

خاشقجی کے قتل پر ان کی منگیتر کا امریکی کانگریس سے نئی عالمی تحقیقات کا مطالبہ

datetime 18  مئی‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی )استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ نے کہاہے کہ انہیں یقین نہیں آتا کہ اب تک اس گھناؤنے جرم کا کسی کو بھی نتیجہ نہیں بھگتنا پڑا ہے۔ترک نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے سامنے بات کرتے ہوئے خدیجہ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دنیا نے اس بارے میں

اب تک کچھ کیوں نہیں کیا ہے۔صحافی کے قتل پر انہوں نے امریکی کانگریس سے نئی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے کہا تھا کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا، تاہم 7 سے 8 ماہ بعد بھی ہمیں کچھ نہیں نظر آرہا جس کی وجہ سے میں آج یہاں آئی ہوں۔انہوں نے جذباتی لہجے میں کہا کہ مجھے اب تک سمجھ نہیں آتی، مجھے اب بھی لگتا ہے کہ میں بیدار ہوں گی، کیا اس طرح امریکی اقدار کا بھی قتل نہیں ہوگیا ہے؟ان کی منگیتر نے امریکا سے سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کی آزادی کے لیے پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آج بھی نہیں معلوم کہ انہیں کیوں قتل کیا گیا، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے باقیات کہاں ہیں۔امریکی حکام نے جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری سعودی حکومت کے اعلیٰ عہدیداران پر عائد کی تھی۔جمال خاشقجی کی منگیتر کا کہنا تھا کہ وہ امریکا اس امید کے ساتھ آئی ہیں کہ ان کے منگیتر کے قتل پر ردعمل دینے میں امریکا ان کی مدد کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی تھی، تاہم وہ اس لیے نہیں آئیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل پر بھروسہ نہیں رکھتی تھیں۔ذیلی کمیٹی کو انہوں نے بتایا کہ ہمیں دو چیزوں میں سے ایک کو چننا ہوتا ہے، یا تو ہم ایسا سوچ لیں کہ جیسے کچھ نہیں ہوا یا ہم اپنے مفادات، عالمی مفادات اور سیاست کو ایک طرف رکھ کر بہتر زندگی کے لیے اپنی اقدار پر توجہ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کے لیے امتحان ہے جس میں اسے کامیاب ہونا چاہیے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…