منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

امریکا کا اسرائیل مخالف ممالک سے تعلقات پر نظرثانی کا عندیہ

datetime 6  مئی‬‮  2019 |

واشنگٹن (این ین آئی)امریکا نے اسرائیل مخالف ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی ، سیاسی اور کاروباری تعلقات پر نظرثانی کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہود مخالف جذبات کے انسداد اور ان کی نگرانی کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے خصوصی ایلچی ایلن کار نے اتوار کو ایک بیان میں اسرائیل کی حمایت میں یہ نیا بھاشن دیا ہے اور ان کے بقول یہ یہود مخالفت کو صہیونیت مخالفت کے مشابہ قرار دینے کی جانب پالیسی میں تبدیلی کا مظہر ہے۔

ایلن کار نے اسرائیل کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ امریکا غیرملکی حکومتوں اور لیڈروں سے تعلقات پر نظرثانی کرسکتا ہے اور امریکا کسی بھی ایسے ملک سے تعلقات یقینی طور پر نظرثانی کرے گا جہاں یہود مخالف جذبات پائے جاتے ہیں اور ایسے کسی ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات تشویش کا موجب ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں دوطرفہ ملاقاتوں میں اس معاملے کو اٹھاؤں گا اور میں دنیا بھر میں بند کمرے کی ملاقاتوں میں ایسا کررہا ہوں۔ تاہم مسٹر کار نے کسی خاص ملک یا لیڈروں کا حوالہ دینے سے گریز کیا ہے اور یہ بھی وضاحت نہیں کی کہ ٹرمپ انتظامیہ ان کے خلاف کیا اقدامات کرسکتی ہے؟البتہ ان کا کہنا تھا کہ میں سفارتی اقدامات ( ٹولز) کے بارے میں بات نہیں کرسکتا ۔ہر ملک کو ایک مختلف سفارتی چیلنج درپیش ہے۔اس کی صورت مختلف ہے۔ دوم ،اگر میں ان اقدامات کا انکشاف کرنا شروع کردوں تو پھر یہ کم اثر ہوجائیں گے۔امریکا کے بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے ری پبلکن لیڈرو ں کو یہ امید ہے کہ اسرائیل کی حمایت سے یہودی ووٹر ان کی جانب راغب ہوں گے ۔ان میں ترقی پسند جمہوری پارٹی کے حلقوں میں فلسطین نواز آوازوں سے متاثر نہ ہونے والے لوگ بھی شامل ہیں۔اس کے ساتھ ناقدین صدر ٹرمپ کے محاذ آرائی ، قومیت پرستی پر مبنی بیانیے کو ہدف تنقید بناتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے امریکا کے منافرت پھیلانے والے گروپوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہواہے۔تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس الزام کو یکسر مسترد کرتی ہے۔مسٹر ایلن کار کا کہنا تھا کہ صہیونیت مخالفت اور یہود مخالفت کو باہم مساوی قرار دینے سے یقینی طور پر ایک نئی بنیاد پڑے گی۔یہودی دنیا کے ساتھ معاملہ کاری کرنے والے اس کے بارے میں جانتے ہیں۔آج کی دنیا میں یہود مخالفت ایک ایسا رنگ ہے جو بذات خود بھی صہیونیت مخالفت کی چھتری تلے چھپ جاتاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…