جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

مودی کو دھچکا: سپریم کورٹ نے گجرات کیس کا فیصلہ سنادیا

datetime 24  اپریل‬‮  2019 |

نئی دہلی( آن لائن ) سانحہ گجرات سے بطور قصائی، دہشت گرد اور اقلیت و انسان دشمن کی شہرت حاصل کرنے والے انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رہنما نریندر مودی تو ووٹوں کی بدولت 2014 میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت کے وزیراعظم بن گئے لیکن اسی سانحہ میں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بننے والی بلقیس بیگم کی اشک شوئی میں ہندوستان کے عدالتی نظام کو 17 سال کا طویل عرصہ لگ گیا۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے گزشتہ روز سانحہ گجرات کے حوالے سے زیرسماعت بلقیس بانو کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے ریاست گجرات کی حکومت کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو 50 لاکھ روپے معاوضہ، سرکاری ملازمت اور ان کی اپنی پسند کی جگہ پررہائش فراہم کرے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق سپریم کورٹ نے تلخ لہجے میں گجرات حکومت کی سرزنش کی اور کہا کہ خود کو قسمت والا سمجھیے کہ ہم آپ کے خلاف کوئی تبصرہ نہیں کررہے ہیں۔2002 میں وقوع پذیر ہونے والے سانحہ گجرات میں بلقیس بیگم کو بھیانک طور پرمسلح فسادیوں نے اجتماعی طور پرعصمت دری کا نشانہ بنایا تھا۔گجرات سانحہ کے وقت ان کی ایک بچی کو موت کی نیند سلایا گیا تھا جو صرف دو سال کی تھی۔ ان کے خاندان کے کل 14 افراد سے مسلح فسادیوں نے زندگی کی سانسیں چھین لی تھیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کی عدالت عظمیٰ میں پہلے ریاست گجرات کی حکومت نے بلقیس بانو کو معاوضے کی شکل میں پانچ لاکھ روپے دینے کی تجویز پیش کی تھی جسے انھوں نے مسترد کر دیا تھا۔بھارت کی سپریم کورٹ نے بعد ازاں معاوضے کی رقم کو دس گنا بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دیا۔سانحہ گجرات کے دوران بلقیس بانو پرفسادیوں نے اس وقت قابو پایا تھا جب وہ اپنی جان بچانے کی کوشش میں بھاگ رہی تھیں۔17

سال سے حصول انصاف کے لیے بھارتی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے والی بلقیس بانو کی اشک شوئی اس وقت کسی حد تک کی گئی جب وہ 36 سال کی ہوچکی ہیں۔بھارت کے سیاسی مبصرین کے مطابق لوک سبھا کے انتخابات کے دوران سانحہ گجرات کے حوالے سے بلقیس بانو کیس کا فیصلہ یقینا حکمران جماعت بی جے پی کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا جب کہ وزیراعظم نریندر مودی کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…