جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

سانحہ کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے اپنا ایک اور وعدہ پورا کردیا

datetime 11  اپریل‬‮  2019 |

ویلنگٹن(این این آئی)نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور فوجی طرز کے نیم خودکار آتشیں ہتھیار رکھنے پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے اور اس قانون کاآج ( جمعہ سے) ملک میں اطلاق ہوجائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ نے یہ قانون گذشتہ ماہ کرائس چرچ کی دو مساجد میں ایک آسٹریلوی دہشت گرد کی اندھا دھند فائرنگ سے پچاس نمازیوں کی شہادت کے بعد منظور کیا ہے۔

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اس قانون پر بحث میں لیتے ہوئے کہاکہ میں نے اس قتل عام کے بعد کسی وسیع طرح مشاورت کے بغیر ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ حکومت کو اس ضمن میں کوئی اقدام کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ مجھے پولیس کمشنر نے بریفنگ کے دوران میں حملے میں استعمال ہونے والے اور قانونی طور پر حاصل کردہ ہتھیار کے بارے میں بتایا تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ قانونی طور پر حاصل کردہ ہتھیار اس طرح کی تباہی پھیلاسکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا موجب ہوسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ عوام یا دہشت گردی کے اس حملے کے متاثرین کا سامنا نہیں کرسکتی تھیں اور دل پر ہاتھ رکھ کر انھیں یہ نہیں کہہ سکتی تھیں کہ یہ ہمارا نظام اور ہمارے قوانین ہی ہیں جنھوں نے ایسی بندوقیں رکھنے کی اجازت دی تھی۔اس نئے قانون کے تحت نیوزی لینڈ کے 1983ء سے نافذ العمل بندوق پر پابندی کے قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔اس قانون میں پہلے بھی بہت سی ترامیم کی جا چکی ہے۔اس قانون کی صرف ایک جماعت ایکٹ پارٹی نے مخالفت کی ہے۔نیوزی لینڈ کی 120 ارکان پر مشتمل پارلیمان میں اس جماعت کی صرف ایک نشست ہے۔نئے قانون کے تحت حکومت شہریوں یا ڈیلروں کے پاس موجود نیم خودکار آتشیں ہتھیاروں کو واپس خرید کرے گی۔شہریوں پر ایسے ہتھیار رکھنے پر پابندی ہوگی۔ جو کوئی اس کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا،اس کو دو سے دس سال تک قید با مشقت کی سزا دی جائے گی۔ حکومت کی ایمنسٹی اسکیم کے تحت 30 ستمبر 2019ء تک شہری اپنے آتشیں ہتھیار حکام کو واپس جمع کراسکتے ہیں اور کی قیمت وصول کرسکتے ہیں۔منظور کردہ نئے قانون کے تحت نیم خودکار ہتھیاروں ، میگزین اور ممنوعہ ہتھیاروں کو جوڑنے میں کام آنے والے آلات اور پرزوں کے رکھنے پر بھی پابندی ہوگی۔اس قانون کی

اب صرف شاہی منظوری درکار ہے اور بالعموم ایسے قوانین کی شاہی توثیق کر ہی دی جاتی ہے۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی پارلیمان میں یہ بل یکم اپریل کو متعارف کرایا گیا تھا اور اس کی محض دس روز میں منظوری پر گن پر کنٹرول کے مؤیدین بھی حیرت زدہ رہ گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…