منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

لیبیا کی سرکاری فوج طرابلس سے چند کلو میٹر کی دوری پر پہنچ گئی،جنگجوفرار

datetime 5  اپریل‬‮  2019 |

ِ صنعاء(این این آئی)یمن کی سرکاری فوج جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں تیزی کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے دارالحکومت طرابلس کے قریب پہنچ گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق جنرل خلیفہ حفتر کی فوج اس وقت دارالحکومت طرابلس سے 27 کلو میٹرکی مسافت پر ہے جب کہ باغی ملیشیا کے جنگجو طرابلس سے فرار ہو رہے ہیں۔لیبیا کی نیشنل آرمی کے آپریشن کنٹرول روم کے انچارج میجر جنرل

عبدالسلام الحاسمی نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے طرابلس کے جنوب میں دارالحکومت سے 100 کلو میٹر دور غریان شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔غریان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سرکاری فوج نے صبراتہ اور صرمان کے مقامات کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ دونوں علاقے طرابلس سے 60 کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔لیبیا کی نیشنل آرمی تیزی کے ساتھ طرابلس کی طرف بڑھ ہی ہے۔ اس وقت لیبی فوج العزیزیہ کے علاقے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ادھر لیبی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے اپنے ایک وائر لیس پیغام میں مسلح افواج کو طرابلس کی طرف بڑھنے اور دارالحکومت پرقابض دہشت گرد ملیشیا کو وہاں سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا ہے۔جنرل حفتر نے ہدایت کی کہ سرکاری فوج دہشت گرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کے دوران شہریوں کے خلاف اسلحہ استعمال نہ کریں بلکہ صرف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو شخص ہتھیار ڈال کر سفید پرچم اٹھائے اسے تحفظ حاصل ہوگا۔ اس کے بعد اس کی جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت ہمارے ذمہ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ طرابلس کے نواح میں تعینات ہمارے فوجیوں کے نام ، آج ہم اپنا مارچ مکمل کرلیں گے۔ ہم بہت جلد یہ مارچ شروع کرنے والے ہیں‘‘۔انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں اپنے مخالفین کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’ آج ہم جابرین کے قدموں سے زمین سرکا دیں گے۔اس کے چند گھنٹے کے بعد ہی ان کی وفادار فورسز نے دارالحکومت کے جنوب میں ایک سو کلومیٹر دور واقع قصبے غریان پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی نیشنل آرمی ( ایل این اے) نے طرابلس میں قائم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ وزیراعظم فایز السراج کی حکومت کے تحت فورسز کو مختصر جھڑپوں کے بعد شکست سے دوچار کیا ہے۔دریں اثنا ء اقوام متحدہ کے

سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس طرابلس ہی میں ہیں۔ وہ لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے متحارب فریقوں پر ضبط وتحمل کی اپیل کی ہے۔لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدرمعمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف

الملوکی کا دور دورہ ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومت قائم ہیں۔ طرابلس میں مغرب اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہے اور لیبیا کے مشرقی شہروں پر خلیفہ حفتر کے زیرِ قیادت فورسز اور حکومت کا کنٹرول ہے لیکن اس کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…