جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

لیبیا کی سرکاری فوج طرابلس سے چند کلو میٹر کی دوری پر پہنچ گئی،جنگجوفرار

datetime 5  اپریل‬‮  2019 |

ِ صنعاء(این این آئی)یمن کی سرکاری فوج جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں تیزی کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے دارالحکومت طرابلس کے قریب پہنچ گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق جنرل خلیفہ حفتر کی فوج اس وقت دارالحکومت طرابلس سے 27 کلو میٹرکی مسافت پر ہے جب کہ باغی ملیشیا کے جنگجو طرابلس سے فرار ہو رہے ہیں۔لیبیا کی نیشنل آرمی کے آپریشن کنٹرول روم کے انچارج میجر جنرل

عبدالسلام الحاسمی نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے طرابلس کے جنوب میں دارالحکومت سے 100 کلو میٹر دور غریان شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔غریان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سرکاری فوج نے صبراتہ اور صرمان کے مقامات کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ دونوں علاقے طرابلس سے 60 کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔لیبیا کی نیشنل آرمی تیزی کے ساتھ طرابلس کی طرف بڑھ ہی ہے۔ اس وقت لیبی فوج العزیزیہ کے علاقے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ادھر لیبی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے اپنے ایک وائر لیس پیغام میں مسلح افواج کو طرابلس کی طرف بڑھنے اور دارالحکومت پرقابض دہشت گرد ملیشیا کو وہاں سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا ہے۔جنرل حفتر نے ہدایت کی کہ سرکاری فوج دہشت گرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کے دوران شہریوں کے خلاف اسلحہ استعمال نہ کریں بلکہ صرف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو شخص ہتھیار ڈال کر سفید پرچم اٹھائے اسے تحفظ حاصل ہوگا۔ اس کے بعد اس کی جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت ہمارے ذمہ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ طرابلس کے نواح میں تعینات ہمارے فوجیوں کے نام ، آج ہم اپنا مارچ مکمل کرلیں گے۔ ہم بہت جلد یہ مارچ شروع کرنے والے ہیں‘‘۔انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں اپنے مخالفین کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’ آج ہم جابرین کے قدموں سے زمین سرکا دیں گے۔اس کے چند گھنٹے کے بعد ہی ان کی وفادار فورسز نے دارالحکومت کے جنوب میں ایک سو کلومیٹر دور واقع قصبے غریان پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی نیشنل آرمی ( ایل این اے) نے طرابلس میں قائم بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ وزیراعظم فایز السراج کی حکومت کے تحت فورسز کو مختصر جھڑپوں کے بعد شکست سے دوچار کیا ہے۔دریں اثنا ء اقوام متحدہ کے

سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس طرابلس ہی میں ہیں۔ وہ لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے متحارب فریقوں پر ضبط وتحمل کی اپیل کی ہے۔لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدرمعمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف

الملوکی کا دور دورہ ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومت قائم ہیں۔ طرابلس میں مغرب اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہے اور لیبیا کے مشرقی شہروں پر خلیفہ حفتر کے زیرِ قیادت فورسز اور حکومت کا کنٹرول ہے لیکن اس کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…