پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بیت المقدس بحران کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے برازیل اور آسٹریا سے سفیر واپس بلا لیے

datetime 2  اپریل‬‮  2019 |

رام اللہ(این این آئی)مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلانات کے بعد فلسطینی اتھارٹی برازیل اور آسٹریا میں تعینات اپنے سفیر واپس بلا لیے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیرخارجہ عمار حجازی نے بتایا کہ برازیل اور آسٹریا کی طرف سے بیت المقدس میں نمائندہ سفارتی مراکز کھولنے کے اعلانات کے بعد ان ملکوں میں تعینات فلسطینی سفیروں کو

واپس رام اللہ بلا لیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی سفیروں کی واپسی ان دونوںً ملکوں کے ساتھ تعلقات کا ازسر نوجائزہ لینے کے لیے عمل میں لائی گئی ہے۔ برازیل کے صدر جیئر پوسونارو نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد شہر میں اقتصادی امور کا نمائندہ دفتر کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ گذشتہ ماہ آسٹریا بھی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد وہاں پراپنا ایک نمائندہ دفتر قائم کر چکا ہے۔عمار حجازی کا کہنا تھاکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات کا ازسر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ ہرسطح پر تعلقات کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔صدر پولسو نارو نے حال ہی میں مقبوضہ بیت المقدس کے دورے کے دوران صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی سفیر کی واپسی حیران کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی شخص کو اذیت نہیں دیناچاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہماری آزادی کا احترام کریں اور انہیں بھی ہمارے کسی فیصلے خلاف احتجاج کا حق ہے۔عمار حجازی نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو برازیل اور آسٹریا کے فیصلوں پر سخت تشویش ہے۔ اس طرح کے اقدامات اور اعلانات مشرقی بیت المقدس سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی توہین کے مترادف ہیں۔انہوں نے کہا کہ برازیل اور آسٹریا کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے کا ذمہ دار امریکا ہے۔ اگر امریکی حکومت ایسا فیصلہ نہ کرتی یہ دونوں ملک بھی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہ کرتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…