جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

اب افغانستان کبھی کسی کیلئے خطرے کا سبب نہیں بن سکے گا،امریکا،چین اورروس نے بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 31  مارچ‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) دنیا کی تین عالمی طاقتوں، امریکا، چین اور روس نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغانستان ان میں سے کسی کے لیے کبھی بھی خطرے کا سبب نہ بنے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تین عالمی طاقتوں نے اس بات کو بھی یقینی بنانے پر رضامندی ظاہر کی کہ افغانستان اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو بھی استعمال کرے۔تین ملکوں کے نمائندوں نے افغانستان میں امن اور

استحکام کے قیام کے سلسلے میں اپنی حکمت پر بات چیت کے لیے جمعرات اور جمعہ کو واشنگٹن میں ملاقات کی، امریکا کے طالبان سے مذاکرات شروع ہونے کے بعد یہ ان تینوں کی پہلی مشترکہ ملاقات تھی۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق تینوں فریقین نے افغان امن عمل کی موجودہ صورتحال اور افغانستان میں امن، خوشحالی اور سیکیورٹی کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے افغانستان کی آزادی ، خود مختاری اور علاقائی حدود کے احترام کو وضع کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان اپنے سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی فیصلوں کا حق رکھتا ہے۔طالبان سے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے زلمے خلیل زاد نے سہ ملکی مذاکرات میں شرکت کی اور مذاکرات کے بعد ٹوئٹ میں لکھا کہ روس، چین اور یورپی یونین سے لنچ پر ملاقات سے قبل انہوں نے تینوں کے ہم منصب سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے لکھا کہ ہم افغان امن عمل میں گہری دلچسپی کو خوش آمدید کہتے ہیں، ہم افغان خود مختاری کا احترام کرتے ہیں، تمام افغانیوں کے لیے امن چاہتے ہیں اور ایک ایسے افغانستان کے خواہشمند ہیں جو کبھی کسی کے لیے خطرے کا ذریعہ نہ بنے۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مزید کہا کہ امریکا، چین اور روس نے اس معاملے پر مزید مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی جہاں تمام فریقین افغان امن عمل میں مشترکہ مفادات اور رابطے کی خواہشمند ہیں۔

اگلی ملاقات کی تاریخ اور وقت کا فیصلہ سفارتی ذرائع سے کیا جائے گا۔اس ملاقات سے قبل گزشتہ ماہ کے اواخر میں امریکا اور طالبان کے درمیان بات چیت کا پانچواں دور ہوا تھا جس میں 4اہم امور پر گفتگو ہوئی جس میں انسداد دہشت گردی کی یقین دہانی، افواج کا انخلا، افغانستان کے اندر مذاکرات اور سیز فائر شامل ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابتدائی دو نکات پر فریقین رضامند ہو گئے لیکن طالبان افغان حکومت سے مذاکرات سے انکاری ہیں اور سیز فائر پر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…