پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

اب افغانستان کبھی کسی کیلئے خطرے کا سبب نہیں بن سکے گا،امریکا،چین اورروس نے بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 24  مارچ‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) دنیا کی تین عالمی طاقتوں، امریکا، چین اور روس نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغانستان ان میں سے کسی کے لیے کبھی بھی خطرے کا سبب نہ بنے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تین عالمی طاقتوں نے اس بات کو بھی یقینی بنانے پر رضامندی ظاہر کی کہ افغانستان اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو بھی استعمال کرے۔تین ملکوں کے نمائندوں نے افغانستان میں امن اور

استحکام کے قیام کے سلسلے میں اپنی حکمت پر بات چیت کے لیے جمعرات اور جمعہ کو واشنگٹن میں ملاقات کی، امریکا کے طالبان سے مذاکرات شروع ہونے کے بعد یہ ان تینوں کی پہلی مشترکہ ملاقات تھی۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق تینوں فریقین نے افغان امن عمل کی موجودہ صورتحال اور افغانستان میں امن، خوشحالی اور سیکیورٹی کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے افغانستان کی آزادی ، خود مختاری اور علاقائی حدود کے احترام کو وضع کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان اپنے سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی فیصلوں کا حق رکھتا ہے۔طالبان سے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے زلمے خلیل زاد نے سہ ملکی مذاکرات میں شرکت کی اور مذاکرات کے بعد ٹوئٹ میں لکھا کہ روس، چین اور یورپی یونین سے لنچ پر ملاقات سے قبل انہوں نے تینوں کے ہم منصب سے ملاقاتیں کیں۔انہوں نے لکھا کہ ہم افغان امن عمل میں گہری دلچسپی کو خوش آمدید کہتے ہیں، ہم افغان خود مختاری کا احترام کرتے ہیں، تمام افغانیوں کے لیے امن چاہتے ہیں اور ایک ایسے افغانستان کے خواہشمند ہیں جو کبھی کسی کے لیے خطرے کا ذریعہ نہ بنے۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مزید کہا کہ امریکا، چین اور روس نے اس معاملے پر مزید مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی جہاں تمام فریقین افغان امن عمل میں مشترکہ مفادات اور رابطے کی خواہشمند ہیں۔

اگلی ملاقات کی تاریخ اور وقت کا فیصلہ سفارتی ذرائع سے کیا جائے گا۔اس ملاقات سے قبل گزشتہ ماہ کے اواخر میں امریکا اور طالبان کے درمیان بات چیت کا پانچواں دور ہوا تھا جس میں 4اہم امور پر گفتگو ہوئی جس میں انسداد دہشت گردی کی یقین دہانی، افواج کا انخلا، افغانستان کے اندر مذاکرات اور سیز فائر شامل ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابتدائی دو نکات پر فریقین رضامند ہو گئے لیکن طالبان افغان حکومت سے مذاکرات سے انکاری ہیں اور سیز فائر پر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…