اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

باہمی محبت کے اسیر مصری صحافی جوڑا 67 سال بعد رشتہ ازدواج میں منسلک،دونوں کی عمر کتنی ہے؟ جان کر یقیناً حیرت کا جھٹکا لگے گا

datetime 23  مارچ‬‮  2019 |

قاہرہ(این این آئی)مصر کا ایک بزرگ صحافی جوڑا بالآخر 67 سال کے انتظار کے بعد رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گیا۔ 85 سالہ مصری صحافی حسین قدری کو ہمیشہ اپنی محبوبہ عصمت سے شادی کی آس رہی۔ دونوں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے 67 سال انتظار کیا۔عرب ٹی وی کے مطابق حسین قدری اور اس کی محبوبہ عصمت کی دلچسپ داستان محبت ہے۔ قدری نے کم عمری میں عصمت سے عشق کیا

اور جوان ہونے پر اس کے ساتھ شادی کی خواہش ظاہر کی مگر تقدیر نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔یہ بیسویں صدی کے تیسرے عشرے کا واقعہ ہے جب حسین قدری کی عمر4 سال تھی اور عصمت شیر خوار تھیں۔ رشتے میں دونوں ایک دوسرے کے خالہ زاد ہیں۔ قدری کی خالہ نے ایک دن عصمت گود میں رکھنے کے لیے قدری کو دی تاکہ وہ کھانا بنا سکے۔ بیٹی پکڑاتے وقت اس کی ماں نے کہا کہ یہ تمہاری خالہ کی لخت جگر ہے کوئی کھلونا نہیں۔ اس لیے میرے کام ختم کرنے تک اسے بہلائو۔وہ وقت اور یہ وقت حسین قدری کے دل سے عصمت کی محبت کی لو کبھی کم نہیں ہوئی۔ دونوں ایک ساتھ بڑے ہوئے اور ایک دوسرے عشق کیا۔ وقت کے ساتھ ان کی محبت پھلتی پھولتی گئی اور سنہ 1952ء کو دونوں کی منگنی ہوگئی۔منگنی چند ماہ بعد عصمت کے والد نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے اس کی شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کرانے کا اعلان کر دیا۔ وہاں سے دونوں کے راستے جدا ہوگئے مگر صحافت کے میدان، ادب اور عشق کے میدان میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھی رہے۔حسین قدری مختلف عرب ممالک میں ریڈیو اور ٹیلی ویڑن چینلوں کا نامہ نگار اور متعدد اخبارات کا چیف ایڈیٹر رہا۔ 1970ء تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ دونوں نے ایک سے زاید بار شادی کی مگر ان کی باہمی محبت موجود رہی۔گذشتہ جمعرات کو وہ شادی کی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی شادی کی تقریب قاہرہ کے وسط میں پریس کلب کی عمارت میں انجام پائی جہاں سینیر صحافی 85 سالہ حسین قدری دلہا اور 81 سالہ عصمت صادق دلہن کے روپ میں دیکھی گئیں۔ پریس کلب کے کیفے میں دونوں کا 67 سال کے بعد نکاح ہوا۔ اس موقع پر دونوں کے قریبی عزیزوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…