اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس فیصلہ،سابق بھارتی چیف جسٹس کا سنسنی خیزانکشاف، بھانڈا پھوڑدیا

datetime 21  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(سی پی پی )سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس پر سابق بھارتی جج مرکنڈے کاٹجو نے بھی رد عمل دیا۔ پروگرام تبدیلی کا سفر میں انکشاف کیا کہ بھارتی ایجنسیز کے پاس سائنٹفیک تحقیقات کا طریقہ کار ہی موجود نہیں۔ ایسے میں اس کیس کا فیصلہ یہی آنا تھا۔تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کے بعد بھارتی عدالت نے بھی انتہا پسند ہندوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کو بارہ سال بعد بری کردیا۔ مرکزی ملزمان سوامی اسیم آنند اور سنیل جوشی سمیت تمام ملزمان کو کلین چٹ جاری۔پاکستان کی جانب سے سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کی بریت کی مذمت کی گئی ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔بھارتی عدالت نے عدم ثبوت پر چاروں کو بری کردیا۔ مجرمان میں لوکیش شرما، کمل چوہان، اسیم آنند، رجیندر چوہدری شامل ہیں۔ جن کے خلاف بیانات بھی ریکارڈ ہوئے اور ثبوت بھی دیے گئے۔ندیپ ڈانگے، رام چندرا اور سنیل جوشی وہ ملزمان تھے جنہوں نے سہولت کاری میں حصہ لیا۔ تاہم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ سنیل جوشی کو 2007 میں قتل کردیا تھا۔ جبکہ رام چندرا اور سندیپ ڈانگے تاحال مفرور ہیں۔ مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند پہلے ہی ضمانت پر رہا ہے۔پاکستان کو دہشتگردی میں ملوث ملزمان کی لسٹ تھمانے والے بھارت سے یہ سوال ہے کہ سمجھوتا ایکسپریس میں جاں بحق 68 افراد کے قاتل کیا معصوم تھے؟ یا جو لوگ مارے گئے ان کی جان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔یقینا ہمیشہ کی طرح بھارت کے پاس ہٹ دھرمی کے سوا کوئی جواب نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…