بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے ایک اور کشمیری پرحملہ کرکے اس کولہولہان کردیا،ساتھی ہی کیا گھناؤنی حرکت کرڈالی؟

  اتوار‬‮ 17 مارچ‬‮ 2019  |  16:55

سرینگر(این این اائی)بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں ہندو انتہا پسندوں نے ایک اور کشمیر ی تاجر پر حملہ کرکے اس کو شدید زخمی کردیا اور اس سے دولاکھ روپے لوٹ لئے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والاشال فروش شکور احمد شاہ کولکتہ کے علاقے جادوپورمیں اپنی کرایے کی رہائشگاہ کی طرف جارہا تھا۔ جب پارک سرکس ریلوے سٹیشن کے نزدیک ہندو انتہا پسندوں نے اسے روک لیا۔شکور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے خریداروں اور ڈیلروں سے پیسے وصول کرنے کے لیے نکل گیاتھا ۔ ہم زیادہ تر


یہاں موسم سرما میں کام کرتے ہیں اور موسم گرما میں واپس چلے جاتے ہیں ۔ چونکہ موسم گرما شروع ہورہا ہے اس لیے ہم اپنے خریداروں اور ڈیلروں سے بقایا رقم وصول کرکے گھر واپس جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ شکور نے کہاکہ شام کو میں ایک مقامی ٹرین میں سوار ہوکرپارک سرکس ریلوے سٹیشن پر اتر گیا تاکہ یہاں ایک خرید ار سے پیسے وصول کروں ۔ شام پونے سات بجے ٹرین ریلورے سٹیشن پر پہنچی اور میں ریلوے سٹیشن کے ساتھ ہی ایک پل سے گزر رہا تھا کہ چار افراد نے مجھے روک لیا۔ انہوں نے مجھے گالیاں دیں اور مجھ پر حملہ کیا ۔ شکور نے کہاکہ جب میں نے تھوڑی مزاحمت کی تو انہوں نے تلوار نکال کر مجھ پر حملہ کردیا۔ میں زمین پر گرگیا اور وہ میر ا بیگ لے کر فرار ہوگئے جس میں ایک لاکھ پچانوے ہزار نقد اور کچھ اہم دستاویزات تھیں۔ شکور نے کہا کہ میں چلاتا رہا لیکن کوئی میری مدد کو نہیں آیا۔ بعد میں کچھ کشمیری شال فروشوں شکور کو وہاں سے اٹھالائے۔کشمیری شال فروش اعجاز احمد ڈار نے کہاکہ مجھے اس کے پاس پہنچنے میں پونا گھنٹہ لگ گیا اور اس وقت تک اس کو کسی نے نہیں اٹھایا۔ اعجاز نے کہاکہ میں نے کسی طرح اس کو رکشے میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر وں کے مطابق اس کے پیٹ میں تلوار گھونپی گئی ہے اور اس کے آنتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس سے پہلے بھی مغربی بنگال میں سویہ بگ بڈگام سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری شال فروش جاوید احمد خان پر ہندو انتہا پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

موضوعات:

loading...