ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

ہندو انتہا پسندوں کا کشمیریوں پر ایک اور وار ، تشدد جائز قرار دیدیا 

datetime 8  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(آن لائن) دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو انتہا پسند تنظیم نے اپنی جماعت کے اراکین کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کرنے کی حمایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد مشکوک کشمیریوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر بھارتی شہر لکھن میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے 2 کشمیری پتھارے داروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر ہر طرف سے اس کی مذمت کی گئی لیکن بہت سے بھارتی شہریوں نے الٹا کشمیریوں پر ہی غصہ نکالا۔

ان حملہ آوروں کا تعلق بھارت کی انتہا پسند جماعت وشوا ہندو دل سے تھا جس کی قیادت نے اس اقدام کی مذمت کرنے کے بجائے اسے صحیح قرار دیا۔تنظیم کے سربراہ امبوج نگام کا کہنا تھا کہ ہاں میرے کارکنان نے انہیں پیٹا، کشمیری جہادیوں کی مدد سے بھارتی فوجیوں پر کیے گئے حملے کے بعد سے عوام میں اشتعال پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری ہمارے فوجیوں پر پتھر پھینکتے اور پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، ہم کیوں یہ برداشت کریں؟امبوج نگم کا کہنا تھا کہ دونوں پتھارے دار ان کے کارکنان کو مشتبہ لگ رہے تھے اس لیے ان سے شناختی کارڈ مانگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے کارکنان نے پولیس کو بھی بلوایا تھا لیکن انہوں نے آنے میں بہت دیر کی۔انہوں نے اس مار پیٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات، جب پولیس آنے میں دیر کرتی ہے تو ہمیں معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پڑتے ہیں۔وشوا ہندو دل کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت بھر میں اپنے 50 ہزار کارکنان کو کشمیریوں پر نظر رکھنے اور غیر قانونی معاملات میں ملوث ہونے پر انہیں چیک کرنے کا حکم دیا تھا۔  دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو انتہا پسند تنظیم نے اپنی جماعت کے اراکین کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کرنے کی حمایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد مشکوک کشمیریوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…