پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ہندو انتہا پسندوں کا کشمیریوں پر ایک اور وار ، تشدد جائز قرار دیدیا 

datetime 8  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(آن لائن) دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو انتہا پسند تنظیم نے اپنی جماعت کے اراکین کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کرنے کی حمایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد مشکوک کشمیریوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر بھارتی شہر لکھن میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے 2 کشمیری پتھارے داروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر ہر طرف سے اس کی مذمت کی گئی لیکن بہت سے بھارتی شہریوں نے الٹا کشمیریوں پر ہی غصہ نکالا۔

ان حملہ آوروں کا تعلق بھارت کی انتہا پسند جماعت وشوا ہندو دل سے تھا جس کی قیادت نے اس اقدام کی مذمت کرنے کے بجائے اسے صحیح قرار دیا۔تنظیم کے سربراہ امبوج نگام کا کہنا تھا کہ ہاں میرے کارکنان نے انہیں پیٹا، کشمیری جہادیوں کی مدد سے بھارتی فوجیوں پر کیے گئے حملے کے بعد سے عوام میں اشتعال پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری ہمارے فوجیوں پر پتھر پھینکتے اور پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، ہم کیوں یہ برداشت کریں؟امبوج نگم کا کہنا تھا کہ دونوں پتھارے دار ان کے کارکنان کو مشتبہ لگ رہے تھے اس لیے ان سے شناختی کارڈ مانگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے کارکنان نے پولیس کو بھی بلوایا تھا لیکن انہوں نے آنے میں بہت دیر کی۔انہوں نے اس مار پیٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات، جب پولیس آنے میں دیر کرتی ہے تو ہمیں معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پڑتے ہیں۔وشوا ہندو دل کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت بھر میں اپنے 50 ہزار کارکنان کو کشمیریوں پر نظر رکھنے اور غیر قانونی معاملات میں ملوث ہونے پر انہیں چیک کرنے کا حکم دیا تھا۔  دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو انتہا پسند تنظیم نے اپنی جماعت کے اراکین کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کرنے کی حمایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد مشکوک کشمیریوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…