پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

بالا کوٹ تک رسائی ناممکن،عالمی اداروں نے بھارتی حملے پر سوالات اٹھا دئیے

datetime 27  فروری‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکا کے سب سے معتبر دفاعی میڈیا ادارے جینز انفارمیشن گروپ نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے قریب دہشت گرد گروپ کے مبینہ کیمپ پر حملے اور 350 سے زائد افراد کو مارنے کے دعوے پر سوالات اٹھا دئیے۔لندن کے ادارے کے تجزیہ کار راہْل بیدی نے امریکی اخبارسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارنے کے حوالے سے جو کچھ بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

وہ اب تک صرف افواہ ہے، انہوں نے ایک دہشت گرد گروپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن خفیہ ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود ان کیمپوں کو کچھ عرصہ قبل ہی ختم کردیا گیا تھا۔امریکی اخبارنے نئی دہلی میں بھارتی ماہرین اور سفارت کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے فضائی حملے میں اہداف غیر واضح تھے کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کشمیر حملے کا جواب دینے کے اعلان کے بعد اگر سرحد پر کچھ دہشت گرد گروپ کام کر بھی رہے ہوتے تو حالیہ دنوں میں انہیں ختم کردیا گیا ہو گا۔ایک اور اہم برطانوی عالمی نشریاتی ادارے نے بالاکوٹ کے علاقے جبا کے مقامی افراد سے انٹرویو کیے جن کے مطابق انہوں نے رات گئے پانچ دھماکے سنے، ان کا کہنا تھا کہ کچھ جھونپڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور درخت بھی جڑ سے اکھڑ گئے لیکن حملے میں کوئی بھی مارا نہیں گیا۔لندن کے ادارے گارجین نے کہا کہ یہ بات واضح نہیں کہ جیٹ طیاروں کے حملے میں کسی خاص چیز کو نشانہ بنایا گیا یا نہیں یا پھر یہ آپریشن اس احتیاط سے انجام دیا گیا کہ پاکستانی جوابی کارروائی کا خطرہ مول لیے بغیر 14فروری کے خود کش حملے کے بعد جنم لینے والے غم و غصے کو کم کیا جا سکے۔برطانوی اخبار نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بالا کوٹ لائن آف کنٹرول سے 80 کلو میٹر دور خیبر پختونخوا میں اور پاکستان کی تسلیم شدہ حدود کے کافی اندر واقع ہے۔اس بارے میں مزید کہا گیا کہ وہاں پر حملہ پچھلی بھارتی جوابی کارروائیوں میں تیزی کی نمائندگی کرے گا۔معروف امریکی نشریاتی ادارے نے نشاندہی کی کہ وزیر اعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ پلوامہ میں دہشت گرد حملے کے بعد اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…