اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سے ہٹ کر تجارتی سرگرمیاں شروع،افغانستان نے بھارت میں برآمدات کیلئے نیا راستہ اختیار کرلیا

datetime 26  فروری‬‮  2019 |

کابل(این این آئی) زمینی راستوں سے گھرے جنگ زدہ علاقے افغانستان نے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ایرانی پورٹ کے ذریعے بھارت میں بر آمدات کے سلسلے کا آغاز کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حکام نے کہاکہ 57 ٹن خشک میوہ جات، ٹیکسٹائل، کارپیٹ اور معدنی مصنوعات پر مشتمل 23 ٹرک مغربی افغانستان کے شہر زرنج سے ایران کے چابہار پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ اشیا بھارت کے شہر ممبئی جائیں گی۔نئے بر آمداتی راستے کے افتتاح پر افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان اپنی بر آمدات میں آہستہ آہستہ اضافہ کر رہا ہے تاکہ اس کا تجارتی خسارہ کم کیا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ چابہار پورٹ بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان تعاون کا نتیجہ ہے اور اس سے یقینی معاشی ترقی سامنے آئے گی۔واضح رہے کہ ایرانی پورٹ کے ذریعے افغانستان کو سمندر تک آسان رسائی ملی ہے اور بھارت نے اس راستے کو قائم کرنے میں مدد فراہم کی جس سے دونوں ممالک کو پاکستان سے ہٹ کر تجارتی سرگرمیاں کرنے کی رسائی حاصل ہوتی ہے۔گزشتہ سال امریکی حکومت نے چند پابندیوں سے استثنیٰ دیتے ہوئے افغانستان کی معیشت کو بہتر بنانے اور پابندی کا سامنا نہ کرنے والے اشیا کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے چابہار پورٹ کو نیا ٹرانسپورٹیشن کوریڈور بنانے کی اجازت دی تھی۔دوسری طرف بھارت کی جانب سے 11 لاکھ ٹن گندم اور 2 ہزار ٹن دالیں افغانستان کو چابہار کے ذریعے بھیجی جاچکی ہیں۔دونوں ممالک نے 2017 میں فضائی کوریڈور قائم کیا تھا۔2018 میں افغانستان کی بھارت کو بر آمدات 74 کروڑ ڈالر رہی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…