اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک نیوکلیئر پاور ہے،اگر کوئی غلطی کی تو صدیوں پچھتانا پڑے گا،سابق بھارتی جج نے اپنی حکومت کو اوقات یاد دلا دی

datetime 21  فروری‬‮  2019 |

نئی دہلی ( آ ن لائن) بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے مودی حکومت کو اوقات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے جنگ کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ وہ ایک نیو کلیئر پاور ہے ،اگر ایسی کوئی غلطی کی تو صدیوں پچھتانا پڑے گا،میں بھی ایک کشمیری ہوں ،آج کل کشمیریوں پر حملے ہو رہے ہیں ،میں نے ڈنڈا سنبھال کر رکھا ہے جو آئے گا اس کا ’’سر‘‘ کھول دوں گا ۔

ایک انٹرویو میں سابق جج مرکنڈے نے کہا کہ پلوامہ حملے میں جو 42 نوجوان مارے گئے میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ آج کل جو لمبی چوڑی باتیں ہو رہی ہیں کہ ہم نے بدلہ لینا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے جن لوگوں نے یہ حملہ کیا ہے وہ تو غائب ہو گئے۔ بھارت نے جو کچھ کشمیر میں کیا ہے اس کے بعد ساری کشمیری عوام بھارت کے خلاف ہو گئی ہے۔دوسری طرف پاکستان پر حملے کرنا کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک نیوکلیئر پاور ہے اور جو بھارت نے وہاں سرجیکل سٹرائیک کی وہ بالکل ایسے ہی جیسے ایک آدمی رات کو گھر میں سو رہا ہے اور آپ چپکے سے اس کے گھر میں گھسں اور ایک طمانچہ مار کر بھاگ جائیں۔ لیکن اب وہ آدمی سو نہیں رہا ہے اب پاکستانی فوج تیارہے۔اگر اس بار لائن آف کنٹرول کراس کرنے کی کوشش کی گئی تو جوابی کاروائی کے لیے تیار رہنا ہو گا۔جسٹس مرکنڈے نے کہا کہ بھارت کے سرجیکل اسٹرائیک کرنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے اس بار بھارت سرجیل سٹرائیک نہیں کر سکے گا۔ جسٹس مرکنڈے نے کہا کہ یہ بھارتی رہنماؤں کی نااہلی اور بیوقوفی کا نتیجہ ہے کہ آج تمام کشمیری عوام بھارت کی مخالفت میں کھڑی ہے۔ جسٹس مرکنڈے کا کہنا تھا کہ بدلہ کیسے لیا جائے گا؟ کیا نہتے لوگوں پر حملہ کرنا بہادری ہے۔جب آپ ایک نہتے آدمی پر حملہ کریں گے۔

تو پھر اس کے دوست رشتہ داروں میں بھی بدلے کی آگ بھڑک اٹھ سکتی ہے۔ جسٹس مرکنڈے انٹرویو دینے کے دوران ڈنڈا لے کر بیٹھے رہے جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو مرکنڈے کاٹجو کا کہنا تھا کہ میں نے اس لیے ڈانڈا پکڑا ہوا ہے کیونکہ میں بھی ایک کشمیری ہوں اور لوگ کشمیریوں پر حملے کر رہے ہیں۔میں بھی کشمیر ہوں میرے پاس اگر ہمت ہے تو میرے پاس آؤ یہ ڈنڈا تمہارا انتظار کر رہا ہے اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو اس ’’ سر‘‘ کھول دوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…