پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ڈھاکہ کے کیمیائی گودام میں آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 70 تک پہنچ گئی

datetime 21  فروری‬‮  2019 |

ڈھاکہ(این این آئی)بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ کے ایک تاریخی علاقے میں لگنے والی آگ میں اب تک کم از کم 70 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔بدھ کی شام ایک رہائشی عمارت، جسے جزوی طور پر کیمیائی گودام کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، میں آگ بھڑک اٹھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق آگ نے قریبی عمارتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔حکام نے بتایا کہ آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 70 ہو گئی ہیں۔ تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔بنگلہ دیش فائر سروس کے سربراہ علی احمد نے بتایا کہ اندیشہ ہے کہ آگ گیس کے سلنڈر سے لگی جس کے بعد اس نے مختلف کیمیکلز کا ذخیرہ رکھنے والی عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔انھوں نے بتایا کہ آگ نے چار قریبی عمارتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا جن کو کیمیائی گودام کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔آگ لگنے سے علاقے میں ٹریفک جام بھی رہا۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ لوگوں کے لیے بچ نکلنا ناممکن تھا۔ڈھاکہ کے صدیوں پرانے علاقے چوک بازار میں انتہائی تنگ گلیاں ہیں جہاں ہر ایک انچ کے فاصلے پر رہائشی عمارتیں موجود ہیں۔ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے ڈپٹی کمشنر ابراہیم خان کے مطابق متاثرین میں اس عمارت سے باہر موجود لوگ بھی شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق بہت سے لوگ عمارت میں پھنس کر رہ گئے تھے جو باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔چوک بازار کا شمار ڈھاکہ کے اہم ترین علاقوں میں ہوتا ہے، یہ ایک تاریخی ضلع ہے جسے 300 سال قبل مغلیہ شاہی دور میں قائم کیا گیا تھا۔یہ علاقہ کیمیکل کے کاروبار اور پرفیوم فیکٹریوں کا مرکز ہے تاہم سنہ 2010 میں لگنے والی ایک مہلک آگ کے بعد حکام کی جانب سے یہاں کیمیائی اشیا کو ذخیرہ کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔یہ علاقہ تنگ گلیوں، رکشوں،چھوٹی گاڑیوں اور لوگوں سے بھرا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ مسافر بسیں بھی ان گلیوں میں نہیں چل سکتی ہیں۔ان تنگ راستوں پر لٹکتی بجلی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی ہزاروں تاریں چوک بازار کے مقامی لوگوں کے لیے خطرہ ہیں۔لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ رہائشی عمارتوں کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس میں نچلی منزلوں کو کیمیائی اور گیس سلنڈرز کے گوداموں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…