اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

’’سی آر پی ایف کانوائے پر حملہ کرنے کیلئےکوئی پاکستان سے نہیں آیا‘‘ بھارتی مذہبی رہنما نے مودی کے سرجیکل سٹرائیک کو بے نقاب کردیا

datetime 18  فروری‬‮  2019 |

مہاراشٹرا(این این آئی)بھارت کے معروف سماجی کارکن اور مذہبی رہنما سوامی اگنیویش نے کہا ہے کہ پلوامہ دھماکہ کرنے کے لیے کوئی آدمی پاکستان سے نہیں آیا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق اگنیویش نے مہاراشٹرا میںایک میڈیا انٹرویو میں کہاکہ پاکستان پر الزام لگانا ایک الگ سوال ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ حملے میں مقامی لوگ شامل ہیں۔

انہوں نے دھماکے پر بی جے پی کی سیاست کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ایک مخصوص جماعت حالات خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے تاکہ آئند پارلیمانی انتخابات میں ووٹ بٹور سکے۔ انہو ں نے کہاکہ موجودہ وزیر اعظم نریندرا مودی نے سرجیکل سٹرائیک اور ملک کے فوجیوں کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ سارے ملک کو فوجیوں کی ہلاکت پر دکھ ہے اور ایک مخصوص جماعت ووٹ حاصل کرنے کے لیے لوگوں کے جذبات کا استحصال کررہی ہے۔ انہو ں نے کشمیری طلباء اور تاجروں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایسا کرنے والوں کے اپنے مفادات ہیںاوروہ ملک کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ سوامی اگنیویش نے کہاکہ یہ پاکستان، افغانستان اور بھارت کو اپنے تمام مسائل حل کرنے کا بہترین موقع ہے۔انہوں نے کہاکہ چند لوگ قوم پرستی کا پروپیگنڈا کررہے ہیں جو ملک کی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے لیے اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری طلباء اور تاجروں پر حملے کیوں کئے جاتے ہیں جبکہ ان کا حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ محض پاگل پن اور معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے سی آرپی ایف کانوائے پر حملے کو انٹیلی جنس کی ناکامی قراردیتے ہوئے کہاکہ گورنر ستیاپال ملک نے خود اس کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانوائے پر حملے کے لیے پاکستان سے کوئی نہیں آیااور یہ ایک مقامی عسکریت پسند عادل احمد نے کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…