اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ثانیہ مرزا نے پلوامہ حملے کے معاملے پر معروف شخصیات پر تنقید کرنے والے بھارتیوں کو کھری کھری سنادیں 

datetime 17  فروری‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا نے پلوامہ حملے کے معاملے پر معروف شخصیات پر تنقید کرنے والے بھارتیوں کو کھری کھری سنادیں۔اپنے پیغام میں ثانیہ مرزا نے ان لوگوں کو خوب آڑے ہاتھوں لیا جو سلیبریٹیز کو سوشل میڈیا پر پلوامہ حملے کے حوالے سے پیغامات جاری نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنارہے تھے۔ ثانیہ مرزا نے کہا کہ میری یہ پوسٹ ان لوگوں کیلئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ سلیبریٹیز کو ایک حملے کی ٹوئٹر ، انسٹاگرام سمیت سوشل میڈیا پر مذمت کرنی چاہیے، کیوں؟

کیونکہ ہم معروف شخصیات ہیں اور بہت سے لوگ ہیجان کا شکار ہیں جنہیں اپنا غصہ نکالنے کا کوئی موقع نہیں ملتا تو وہ مزید نفرت پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ثانیہ مرزا نے کہا کہ مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ میں عوام میں آکر دہشتگرد حملے کی مذمت کروں، چھت پر چڑھ کر چیخیں ماروں یا سوشل میڈیا پر یہ کہتی پھروں کہ ہم دہشتگردی کے خلاف ہیں، بلاشبہ ہم دہشتگردی اور دہشتگردی پھیلانے والوں کے خلاف ہیں۔ٹینس سٹار نے کہا کہ میں اپنے ملک کیلئے کھیلتی ہوں، اس کیلئے پسینہ بہاتی ہوں، میرا اپنے ملک کی خدمت کرنے کا یہی طریقہ ہے، میرا دل اپنے سی آر پی ایف کے جوانوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہے، 14 فروری پورے بھارت کیلئے سیاہ دن تھا اور میں امید کرتی ہوں کہ ہمیں دوبارہ یہ دن نہ دیکھنا پڑے، میں کہتی ہوں کہ نہ تو ہم اس حملے کو بھول سکتے ہیں اور نہ ہی معاف کرسکتے ہیں لیکن میں پھر بھی نفرت پھیلانے کی بجائے امن کی دعا کروں گی۔سوشل میڈیا ٹرولز کو مخاطب کرکے ثانیہ مرزا نے کہا کہ غصہ تب تک اچھی چیز ہے جب تک اسے مثبت چیزوں کیلئے استعمال کیا جائے، دوسرے لوگوں کو ٹرول کرکے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا ، اپنی قوم کی خدمت کرنے کا بہتر طریقہ ڈھونڈو ، بجائے اس کے کہ بیٹھ کر یہ دیکھتے رہو کہ کس شخص نے سوشل میڈیا پر کتنی پوسٹیں کی ہیں، اپنے حصے کا کام کرو، ہم سوشل میڈیا پر راگ الاپے بنا اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…