اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

سعودی،اسرائیلی تعاون خیالی پلاؤ ہے،مؤقف تبدیل نہیں ہوا : شہزادہ ترکی الفیصل

datetime 15  فروری‬‮  2019 |

ریاص (این این آئی)سعودی عرب کے انٹیلی جنس ادارے کے سابق سربراہ اور چیئرمین شاہ فیصل مرکز برائے تحقیق اور اسلامی مطالعات شہزادہ ترکی الفیصل نے اس نظریے کو مسترد کردیا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کوئی تعاون کررہا ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے حوالے سے سعودی عرب کے مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ اس ضمن میں باتیں محض خیالی پلاؤ ہی ہیں۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں ایران فائل کے حوالے سے حالیہ ’’مفاداتی سنگم‘‘ کی بنیاد پر سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے متعلق دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ محض اس بنیاد پر سعودی عرب کے مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔میڈیا اور دوسرے ایرانی خطرے کی بنا پر ا سرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کے حوالے سے خیالی پلاؤ ہی پکا رہے ہیں اور وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ، وہ محض ان کی اپنی خیالی سوچ ہی ہے۔انھوں نے اس انٹرویو میں سعودی عرب میں منعقدہ گذشتہ عرب سربراہ کانفرنس کا حوالہ دیا اور کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے یروشلیم ( مقبوضہ بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یہ کانفرنس طلب کی تھی اور اس کو یروشلم سمٹ کا نام دیا تھا۔شہزادہ ترکی الفیصل نے کہاکہ اس سربراہ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں عرب دنیا کے اس موقف کا ا عادہ کیا گیا تھا کہ عرب من اقدام کے مطابق یروشلم کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔انھوں نے شاہ سلمان کی فلسطینی صدر محمود عباس سے حالیہ ملاقات میں گفتگو کا بھی حوالہ دیا ہے۔اس میں انھوں نے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ سعودی عرب یروشلم دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ الریاض میں اس ملاقات کے بعد شاہ سلمان کی طرف سے جاری کردہ بیان کو ملاحظہ کیجیے۔اس میں انھوں نے عرب امن اقدام سے سعودی عرب کی وابستگی کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔ انھوں نے کہا کہ شاہ سلمان کا بیان دراصل سعودی عرب کی ( تنازع فلسطین ) سے متعلق دیرینہ پالیسی ہی کا اعادہ ہے اور اس کے دیرینہ مؤقف کا مظہر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…