پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کا فدائی حملہ، 44بھارتی فوجی اہلکار واصل جہنم، کرفیو نافذ کر دیا گیا

datetime 14  فروری‬‮  2019 |

سرینگر( آن لائن)مقبوضہ کشمیر کے گرمائی دارلحکومت سرینگر میں ایک فوجی قافلے پر خودکش کا ر بم حملے میں کم از کم 44بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں ۔ بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مقامی پولیس نے بتایا ہے کہ واقعہ سرینگر سے تقریباً 20کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع پلوامہ کے قصبے اوانتی پورہ میں ایک شاہر اہ پر اس وقت پیش آیا جب سی آر پی ایف کا جموں سے سرینگر آنیوالا ایک قافلہ گزرہا تھا کہ

اس دوران مجاہدین کی طرف سے گھات لگا کر قافلے کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا اور تقریباً 350کلوگرام دھماکہ خیزمودا سے لدی کار کو قافلے میں شامل سی آر پی ایف کی54بٹالین کی 50سیٹر بس سے ٹکرا دیا ، دھما کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 44ہوگئی ہے جبکہ درجنوں اہلکار زخمی بھی ہوگئے ہیں ۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، بھارتی حکام کے مطابق متعدد اہلکاروں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے ۔ قافلے میں 70 گاڑیاں جبکہ2500اہلکار شامل تھے ۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے فوری بعد فائرنگ اور گرینیڈ دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی گئی ہیں ۔ جائے وقوعہ جاری تصاویر کے مطابق حملے کے بعد انسانی اعضاء ادھر ادھر بکھر ے دیکھے گئے ہیں ،کم از کم ایک گاڑی کے حصے شا ہراہ پر بکھر ے پڑے ہیں جبکہ نیلے رنگ کی فوجی بسوں کے حصے بھی شامل ہیں ، دھماکے کے بعد ضلع پلوامہ میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہیفورسز نے اردگرد کے علاقے کو حصار میں لے کر سیکورٹی سخت کردی ہے ۔زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچادیا گیا ۔ قبل پولیس حکام کا کہنا تھا کہ یہ بارودی سرنگ کا دھماکہ تھا ۔ مقامی میڈیارپورٹس کے مطابق جیش محمد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ترجمان نے ا یک بیان میں کہا ہے کہ یہ فدائی حملہ گروپ کے مقامی ممبر عادل احمد عرف وقاص کمانڈو نے کیا ہے ۔ 2001ء کے بعد سے مقبوضہ وادی میں قانون ساز اسمبلی میں کار بم دھماکے کے بعد سے یہ اس نوعیت کا حملہ سامنے آیا ہے ۔ دریں اثناء بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے سی آر پی ایف کے کمانڈر سے پلوامہ حملے سے متعلق بات کی ہے اور صورتحال معلوم کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…