اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

امریکہ طالبان مذاکرات میں بڑا بریک تھرو،افغانستان میں انتخابات افغان حکومت کے بجائے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کرانے کی تیاریاں

datetime 4  فروری‬‮  2019 |

ٰ اسلام آباد (آن لائن) امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ماہ دوحا میں ہونے کی توقع ہے۔ آئندہ مرحلے میں افغانستان میں دو عشروں سے جاری جنگ کے خاتمے کی تجاویز پر مزید اور تفصیلی غور ہوگا جب کہ افغانستان میں انتخابات افغان حکومت کے بجائے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کرانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔گذشتہ ماہ قطر میں ہونے والے مذاکرات میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے جہاں امید پیدا ہوئی وہاں اندیشوں نے بھی جنم لیا۔

دوحا میں 6 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے حوالے سے امریکا اور طالبان دونوں فریقین نے ’ پیش رفت‘ ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ان مذاکرات کی بنیاد دو مرکزی نکات پر تھی پہلا امریکی افواج کے انخلا کی ٹائم لائن اور دوسرا یہ کہ مغرب اور دیگر ممالک کے خلاف دہشت گرد گروپ افغان سرزمین دوبارہ استعمال نہ کرسکیں تاہم باخبر حکام کے مطابق مذاکرات میں فریقین کے درمیان امن معاہدے طے پاجانے کی صورت میں افغانستان میں اگلے انتخابات اقوام متحدہ کے تحت کرائے جانے کی تجویز بھی زیرغور رہی۔ پاکستان بھی بند دروازے کے پیچھے ہونے والے مذاکرات کا حصہ تھا جس کی کوششوں سے دیرینہ دشمن مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے واقف ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ مذاکرات میں امن معاہدے کے تمام پہلوؤں پر مشتمل ایک ’وسیع تر فریم ورک‘ زیربحث رہا۔واضح رہے کہ طالبان اب تک امن معاہدے کے لیے جاری کوششوں میں افغان حکومت کے ساتھ بیٹھنے سے انکاری رہے ہیں تاہم حکام کے مطابق اگلے مرحلے میں طالبان اور افغان حکومت سمیت تمام گروپ عشروں کی خونریزی کے بعد اپنے ملک کا مستقبل طے کرنے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھ سکتے ہیں۔دریں اثنا مذاکرات میں جس انداز سے پیش رفت ہوئی ہے اس سے افغان صدر اشرف غنی بظاہر پریشان نظر آتے ہیں۔ ان کی انتظامیہ کو اس وقت سائیڈلائن کردیا گیا جب کہ وہ رواں برس جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد مزید پانچ سال کے لیے

منصب صدارت سنبھالنے کے متمنی ہیں تاہم مشاہدہ کاروں کو یقین ہے کہ صدارتی انتخابات کا مستقبل جاری امن مذاکرات سے وابستہ ہے۔طالبان کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کی نگرانی میں انتخابات کروانے کی تجویز دی گئی تھی۔ طالبان پر اثر رکھنے والے ممالک ان پر انتخابی عمل کا حصہ بننے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں تاہم طالبان کی جانب سے انھیں واضح اشارے نہیں ملے۔مذاکراتی عمل میں طالبان کی نمائندگی کرنے والے شیرعباس ستنکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان، افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اور توقع رکھتے ہیں کہ امن معاہدے کے بعد افغان فوج کو تحلیل کردیا جائے۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…