پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

لڑائی سے بچ نکلے والے بچے شدید سردی کے آگے زندگی کی بازی ہار گئے ، شام میں نقل مکانی کرنے والے 29بچے شدید سرد موسم کے باعث جاں بحق

datetime 1  فروری‬‮  2019 |

دمشق( آن لائن )داعش کے کنٹرول میں موجود آخری علاقوں میں لڑائی سے بچ کر نقل مکانی کرنے والے افراد میں سے 29 بچے اور نومولود شدید سرد موسم کے باعث جاں بحق ہوگئے۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں بتایا کہ انہیں دیر الزور کے دیہی علاقوں سے گزشتہ 2 ماہ کے عرصے میں نقل مکانی کرنے والے 23 ہزار افراد کو درپیش صورتحال پر سخت تشویش ہے اور ان کو میسر سہولیات انتہائی ابتر ہیں۔

اس سخت سردی میں متعدد افراد نے الھول تک پہنچنے کے لیے پیدل یا کھلے ٹرکوں میں کئی دن تک سفر کیا، جو پناہ گزینوں کا مرکزی کیمپ ہے اور وہاں بھی انہیں کئی راتیں خیموں، کمبلوں یا حرارت کے بغیر کھلے آسمان تلے گزارنی پڑیں۔بیان میں ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ کیمپ میں صورتحال انتہائی سنگین ہے، انتظامیہ کو لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر افراد داعش کے زیر اثر علاقوں میں انتہائی مخدوش حالت میں زندگی گزارنے کے باعث خوراک کی کمی اورتھکاوٹ کا شکار ہیں۔گزشتہ 2 ماہ کے عرصے میں الھول کی آبادی 10 ہزار افراد سے بڑھ کر 33 ہزار افراد ہوگئی ہے، جہاں موجود پناہ گزین کیمپ میں گرمائش بھی میسر نہیں جبکہ بیت الخلا، صحت، خیموں اور نکاسی آب کی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔کیمپ میں آنے والے افراد میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں جو دیرالزور کے دیہی علاقوں سے وہاں پہنچے ہیں، ان علاقوں میں کرد اور مقامی عرب قبیلے امریکی اتحاد کی حمایت کے ساتھ داعش کے خاتمے کی کوشش کررہے ہیں۔دوسری جانب الحسک میں موجود کیمپ تک امداد کی رسائی بیوروکریٹک رکاوٹوں اور سیکیورٹی پابندیوں کے باعث متاثر ہے، کیمپ تک پہنچنے والے متعدد افراد کو سیریئن ڈیموکریٹک فورس کے سیکیورٹی چیک کے باعث کئی گھنٹے کھلے آسمان تلے گزارنے پڑے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق کیمپ تک پہنچ کر اور سفر کے دوران گزشتہ آٹھ ہفتوں میں کم از کم 29 بچے اور نومولود ہلاک ہوچکے ہیں جس میں زیادہ تر اموات ہائیپوتھرمیا کی وجہ سے ہوئیں جس میں جسم کا درجہ حرارت انتہائی گر جاتا ہے۔چناچہ ادارے الھول کیمپ میں صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے تنازع میں شامل تمام فریقین سے اپیل کی کہ الھول کیمپ میں انسانی جانوں کو بچانے کے امداد کی بہم فراہمی یقینی بنائی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…