پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل میں سائبر اور میزائل آپریشنز کے شعبے کااعلیٰ سکیورٹی عہدے دار سینکڑوں دستاویزات سمیت فرار ،مغربی ملک کے قونصل خانے میں پناہ لے لی

datetime 1  فروری‬‮  2019 |

تہران (این این آئی) ایران میں اپوزیشن کی ویب سائٹس کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل میں سائبر اور میزائل آپریشنز کے شعبے کے ایک اہم مشیر تورج اسماعیلی نے فرار ہو کر ترکی میں ایک مغربی قونصل خانے میں پناہ لے لی ہے۔ تورج کے قبضے میں سیکڑوں اہم خفیہ دستاویزات موجود ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری علی شمخانی کے ایک مقرب ذریعے نے بتایاکہ تورج اتوار 13 جنوری کو فرار ہوا۔ تورج استنبول میں ایک ہوٹل میں روپوش تھا۔ ایرانی انٹیلی جنس نے ترکی کی انٹیلجنس ایجنسی (ایم آئی ٹی) کے تعاون سے ہوٹل پر چھاپا مارا تا کہ تورج کو گرفتار کیا جا سکے۔ تاہم وہ پہلے ہی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ تورج نے استنبول میں ایک مغربی ملک کے قونصل خانے میں پناہ لی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس کی تورج کو پکڑنے کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں جب کہ اس کے پاس ایرانی میزائل پروگرام اور سائبر آپریشنز سے متعلق سیکٹروں دستاویزات ہیں۔ویب سائٹ نے بتایا کہ اپریل 2018 سے ایرانی قومی سلامتی کے تین سینئر معاونین گرفتار ہیں۔ علی رضا زرافیان، ایڈمرل عیسی گل فردی اور غفور در غازی پر جاسوسی کے الزامات ہیں۔ادھر ایرانی اپوزیشن کی فارسی زبان کی ویب سائٹ نے بتایا کہ ڈاکٹر تورج اسماعیلی کو ایرانی نظام کے شہری دفاع کے امور میں ایک مرکزی منصوبہ ساز اور تجزیہ کار شمار کیا جاتا ہے۔ وہ ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل میں سائبر امور کے مشیر کے طور پر کام کر رہا ہے۔یاد رہے کہ اس خبر کا ذکر ایران میں کسی مقامی میڈیا پر نہیں آیا۔ کسی حکومتی ذریعے نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ صرف اپوزیشن کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر بعض سرگرم حلقوں نے اس کو نشر کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…