اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان سے جنگ،افغانستان میں روزانہ کتنے سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہورہے ہیں؟افغان صدر اشرف غنی کاافسوسناک انکشاف

datetime 26  جنوری‬‮  2019 |

ڈیووس(این این آئی)افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ان کے دور صدارت میں ستمبر 2014 سے اب تک 45 ہزار افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ۔ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا کہ جب سے انہوں نے صدر کا منصب سنبھالا ہے

اس وقت سے سیکیورٹی فورسز کے 45 ہزار اہلکار ہلاک ہوگئے ۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے میں صدر بن گیا ہوں تب سے 45 ہزار اہلکاروں نے قربانی دی ہے اور اس دوران بیرونی نقصان کی تعداد 72 سے کم ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے برسر پیکار کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی ضرورت ہے جہاں ایک طرف امریکی، یورپی اور دیگر اقوام کا تحفظ کرنا ہے وہی اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور اپنے ادارے مستحکم ہوں۔افغان صدر کے بیان کے مطابق افغانستان میں جاری کشیدگی میں روزانہ کی بنیار پر 28 سے زائد افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو مارا جاتا ہے جو ایک ہول ناک صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔اشرف غنی کے بیان اور افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد سے امریکی حکام کے ان دعووں کی نفی ہوتی ہے جس کے مطابق افغان فورسز مختلف گروپوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے قابل ہوچکی ہیں۔افغان طالبان کی جانب سے 5 جنوری کو ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 2018 میں ہونے والے خون ریز 90 فیصد واقعات کی ذمہ داری امریکا اور افغان فورسز پر عائد ہوتی ہے۔طالبان کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ برس مجموعی طور پر 4 ہزار 170 شہری متاثر ہوئے جن میں سے 2 ہزار 294 افراد جاں بحق اور 1876 افراد زخمی ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…