ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا نام شاہی خاندان میں پھوٹ پڑ گئی ، جانشینی سے ہٹانے کا مطالبہ مستقبل کے بادشاہ کیلئے کس کے نام پرغور شروع کردیا گیا؟

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

ریاض( آن لائن ) سعودی شاہی خاندان نے جمال خاشقجی قتل کیس میں محمد بن سلمان کا نام آنے کے بعد ولی عہد کو جانشینی سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مطالبہ کرنے والوں میں محمد بن سلمان کے قریبی عزیز شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 76 سالہ پرنس احمد بن عبدالعزیز کو مستقبل میں بادشاہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

پرنس احمد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے چچا اور عبدالعزیز کے آخری بیٹے ہیں۔ذرائع کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے بھی سعودی مشیروں کو احمد بن عبدالعزیز کی تجویز پر ساتھ دینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔واضح رہے احمد بن عبدالعزیز سعودی بادشاہ شاہ سلمان کے بھائی ہیں اور گزشتہ 40 سال سے ڈپٹی وزیر داخلہ کے عہدے پر تعینات ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی ترکی کے قونصل خانے میں جانے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد تحقیقاتی ٹیموں نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سعودی صحافی کو قونصلیٹ میں قتل کردیا گیا ہے۔سعودی عرب آغاز میں ان کے قتل کی تردید کرتا رہا تاہم بعد میں بین الاقوامی دباؤ بڑھنے کے بعد اس کی تصدیق کردی۔جمال خاشقجی کے قتل نے سعودی عرب اور اس کے مضبوط حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے ایک شدید بحران پیدا کردیا ہے، امریکی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے)نے انکشاف کیا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا اور قتل سے قبل امریکا میں سفیر تعینات خالد بن سلمان نے مقتول صحافی کو فون کرکے سعودی سفارت خانے جانے پر آمادہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…