ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

بھارتی فوج کا تنظیمی ڈھانچہ پرانا ہے اور اس میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے : جنرل راوت کا اعتراف

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

سرینگر(این این آئی) یہ امر دلچسپ ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان مجوزہ ملاقات منسوخ کرنے کے ایک روز بعد پاکستان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دینے والے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اس بات کا اعتراف کرلیاہے کہ بھارتی فوج کا تنظیمی ڈھانچہ پرانا ہے۔

اور اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنرل راوت نے نئی دہلی میں ایک انگریزی روزنامے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ ہم فورسز کو مستقبل میں کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا تنظیمی ڈھانچہ پرانا ہے اور اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انٹرویو میں انہوں نے پاکستان اور چین کے جنگی محاذوں سے نمٹنے کے لیے بھارتی فوج کے منصوبوں پر روشنی ڈالی ۔ فوج میں مجوزہ تبدیلی یا تشکیل نو کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جنرل راوت نے کہا کہ ہم اصل صورتحال کے مطابق نئے تصور ات پر عمل کرنے کی کوشش کے تحت بہت جلد(Integrated Battle Groups )مربوط جنگی گروپ تشکیل دیں گے۔جنرل راوت نے آئی بی جی اور اس کے کام کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ جب آپ جنگ میں جاتے ہیں تو فورسزکے مختلف شعبوں کاایک مربوط گروپ بنایا جاتا ہے اورہم اب آئی بی جی امن کے دوران ہی بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ انفنٹری، آرمرڈ، آرٹلری، سگنلز اور انجینئرنگ سمیت مختلف بٹالیینزکو پہلے ہی ایک علاقہ دیا گیا ہے اور ہم انہیں امن کے دنوں میں ہی تیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا آئی بی جی روایتی بریگیڈ سے بڑا ہوگاتو جنرل راوت نے کہاکہ ہم دو قسم کے IBGs بنانا چاہتے ہیں ،پہاڑی علاقوں ( چینی سرحد)کے لیے چھوٹ قسم کے اور میدانی علاقوں(پاکستانی محاذ) کے لیے بڑے قسم کے آئی بی جیز۔ انہوں نے کہاکہ جنگ کا طریقہ کار تبدیل ہورہاہے اور ہمیں اسی کے مطابق تبدیل ہونا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…