جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب جمال خاشقجی کے قاتل کانام بتائے ورنہ ۔۔۔! ترک صدر طیب اردگان نے انتہائی اقدام کا اعلان کردیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

انقرہ (آن لائن) ترک صدر طیب اردگان نے ایک بار پھر سعودی عرب سے صحافی جمال خاشقجی کے قاتل کا نام بتانے کا مطالبہ کردیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر طیب اردگان نے اپنی جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کی لاش ٹھکانے لگانے والے مقامی شخص کی شناخت بتائی جائے

اور لاش ترکی حکام کے حوالے کی جائے۔ترک صدر طیب اردگان نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے اپنے 18 شہریوں کو صحافی کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا تھا چنانچہ اب بتایا جائے کہ اْن میں سے کس نے صحافی کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا اور ایسا کرنے کا حکم دینے والے شخص کا نام بھی بتایا جائے۔ترک صدر نے کہا کہ صحافی کے قتل کو حادثہ قرار دینے کا سعودی بیان بچکانہ تھا جو کسی بڑی سلطنت کا سنجیدہ موقف نہیں ہوسکتا۔ اگر سعودی عرب 18 گرفتار افراد سے سچ نہیں اگلواسکتا تو انہیں ترکی کے حوالے کردے۔ ہم خود ان سیقاتل اور لاش کی نشاندہی کروالیں گے۔ قاتل سمیت قتل کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی استنبول میں ہی کی جائے گی اور ترکی کے قوانین کے تحت ہی سزائیں بھی دی جائیں گی۔واضح رہے کہ ترک صدر نے اپنے پہلے خطاب میں بھی صحافی کے قتل کا ذمہ دار ریاض سے آنے والے 15 افراد اور استنبول کے سعودی قونصل خانے کے 3 اہلکاروں کو قرار دیتے ہوئے لاش کی نشاندہی کا مطالبہ کیا تھا۔ ترک صدر طیب اردگان نے ایک بار پھر سعودی عرب سے صحافی جمال خاشقجی کے قاتل کا نام بتانے کا مطالبہ کردیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر طیب اردگان نے اپنی جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کی لاش ٹھکانے لگانے والے مقامی شخص کی شناخت بتائی جائے اور لاش ترکی حکام کے حوالے کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…