جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سی پیک تو کچھ نہیں سعودی عرب نے عالمی سیاست اور طاقت کا رخ موڑ کر رکھ دیا، ایسا حیرت انگیز جدید منصوبہ شروع کر دیا گیا کہ جس کے بعد دولت اور طاقت کا رخ عرب دنیا کی جانب ہوجائیگا

datetime 21  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی سیاست اور بین الاقوامی معیشت میں جوہری تبدیلی کا حامل منصوبہ سی پیک زور و شور سے جاری ہے جبکہ دوسری جانب سعودی عرب نے بھی بحیرہ احمر کے کنارے مصر اور اردن کے سرحدی علاقوں تک پھیلے بڑے صنعتی شہر کے منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے ویژن 2030کے مطابق بحیرہ احمر کے کنارے مصر اوراردن کے سرحدی علاقوں تک پھیلے

اس شہر کا نام نیوم رکھا گیا ہے جس کی تعمیر کیلئے باقاعدہ تعمیراتی کمپنیوں کو ٹھیکے دینے کے آغاز کر دیا گیا ہے ۔ سعودی شاہی دیوان کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق نیوم میں پانچ محلّات اور دوسرے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے ٹھیکوں کی منظوری دے دی گئی ہے ۔ یہ ٹھیکے سعودی کمپنیوں کو ہی دئیے گئے ہیں۔ ان ٹھیکوں کی مالیت 4ارب ڈالرز کے قریب ہے۔ اس تاریخی منصوبے کے پہلے مرحلے کا تعمیراتی کام 2025ء میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا جبکہ نیوم کا تمام منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار ( جی ڈی پی ) میں 2030ء تک 100 ارب ڈالرز کا اضافہ متوقع ہے۔سعودی عرب نیوم شہر کی تعمیر میں پانچ سو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ پہلا نجی منصوبہ ہے جس میں تین ممالک شریک ہوں گے۔اس کے لیے ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کی جائے گی اور دنیا بھر کی آبادی میں سے 70 فی صد لوگ کہیں سے بھی آٹھ گھنٹے کی مسافت کے بعد اس نئے جدید شہر تک پہنچ سکیں گے۔یہ ایک منفرد محل وقوع کا حامل منصوبہ ہے۔نیوم کا رقبہ 26500 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور یہ منفرد محل وقوع کی وجہ سے تیز رفتاری سے ابھر کر سامنے آئے گا۔یہاں عرب دنیا ، افریقا ، ایشیا ، امریکا اور یورپ سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں اور ماہرین کے لیے کام کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…