بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیلی فوج کا غزہ پر 2014ء کے بعد سب سے بڑا حملہ،دو شہید ‘ 200 زخمی

datetime 15  جولائی  2018 |

غزہ((انٹرنیشنل ڈیسک)) اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی سرحد کے قریب شدید بمباری کی ہے جب کہ ہفتہ وار ’حق واپسی مارچ‘ کے شرکاء پر قابض فوج کی فائرنگ سے 2 کم عمر نوجوان شہید ہوگئے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے جنگی جہازوں نے غزہ سرحد کے قریبی علاقوں میں متعدد مقامات پر بم برسائے، 2014ء کی جنگ کے بعد اسرائیل کا یہ اب تک کا غزہ کی پٹی پر سب سے بڑا حملہ ہے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کی جانب سے راکٹ فائر کیے جانے کے جواب میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، صیہونی فوج نے تحریری بیان میں کہا کہ غزہ سرحد کے قریب 40 سے زائد حماس کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی جب کہ 2 سرنگوں کو بھی تباہ کردیا گیا۔دوسری جانب حق واپسی مارچ کے مظاہرین پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں مزید 2 نوجوان شہید ہوگئے جس کے بعد گریٹ ریٹرن مارچ کے مظاہرین پر قابض فوج کے ظلم سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 140 ہوگئی ہے۔تازہ مظاہرے میں اسرائیلی نشانہ باز اہل کاروں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں خواتین اور نوعمر لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 200 سے زائد بتائی گئی ہے جن میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ 2014ء کے بعد غزہ میں بڑی کارروائی ہے حماس آج نہ سمجھا تو کل سمجھ جائے گا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے جمعے کے روز سے ایک 100 راکٹ جنوبی اسرائیل پر داغے ہیں جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ صیہونی فوج نے غزہ پر 40 سے زائد میزائل داغے اور متعدد عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق ایک عمارت پر اسرائیلی طیاروں کے میزائل حملوں میں دو فلسطینی بچے شہید اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہاکہ غزہ پر میزائل حملے حماس کے راکٹ حملوں اور فلسطینیوں کے پتنگوں کے ذریعے اسرائیلی جنگلات کو جلانے کا جواب دینے کیلئے کئے گئے ہیں اور یہ حملے جاری رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…