منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گیارہ سالہ بچی کی 41 سالہ انڈونیشی مرد سے شادی، عوام سراپا احتجاج بن گئے

datetime 2  جولائی  2018 |

جکارتہ(انٹرنیشنل ڈیسک) مسلمان ملک انڈونیشیا میں اکتالیس سالہ شخص کی گیارہ سالہ تھائی بچی کے ساتھ مبینہ شادی کی خبر نے عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔غیرملکی خبررساں اداریے کے مطابق گیارہ سالہ بچی کی پکی عمر کے شخص سے شادی کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنقید کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا اور شادی کو بچپن پر خون خوار بھیڑیے کا حملہ قرار دیا۔

خیال رہے کہ انڈونیشیا کے سرکاری قانون میں مذہبی عدالت کی اجازت سے دس سال سے کم عمر کے افراد کی شادی کی اجازت ہے۔تاہم دوسری عائلی اور امور نسواں کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی گئی کہ سرکاری طور پر ایسی کی شادی کی رجسٹریشن کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ میڈیا میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ تھائی لینڈ کی جنوبی سرحد پر گذشتہ ماہ پیش آیا تھا۔وزیراعظم عزیزی وان اسماعیل نے ایک بیان میں کہاکہ سرکاری حکام نے شادی والے گھر کا دورہ کیا اور بچی کی والدہ سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل ہم اس حوالے سے مزید اطلاعات کا انتظار کریں گے۔اطلاعات کے مطابق گیارہ سالہ بچی کی شادی ایک 41 سالہ شخص کے ساتھ کی گئی ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس نے عدالت کی اجازت کے بغیر شادی کی ہے تو کم سن سے شادی پر اس شخص کو چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس خبر نے کہرام برپا کر رکھا ہے۔ سماجی کارکنوں نے کم سنی کی شادی سے متعلق سرکاری قانون میں ترمیم کرنے اور نو عمر افراد کی شادی کی اجازت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…