جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

امریکی صدر ٹرمپ کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہے اپنی ہی اہلیہ میلانیا نے سب کے سامنے ایسی بات کہہ دی کہ امریکی صدر کو منہ چھپانا پڑ گیا

datetime 18  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے میکسیکو سے امریکہ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے کی پالیسی کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انھیں بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرنے سے نفرت ہے۔میلانیا ٹرمپ کی ترجمان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا ملک ہونا چاہیے جو تمام قوانین کی پاسداری کرے

لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں ایسا ملک بھی ہونا چاہیے جہاں دل کی حکومت ہو۔ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب صدر ٹرمپ کی صفر برداشت کی پالیسی تنازع کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔اور حالیہ چھ ہفتوں کے دوران تقریباً دو ہزار خاندانوں کو ان کے بچوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔جو بالغ سرحد عبور کرتے ہیں انھیں حراست میں لے کر ان کے خلاف غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے جرم میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے حالانکہ ان میں بہت سے پناہ حاصل کرنے کی غرض سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔اس کے نتیجے میں سینکڑوں بچے حراستی مراکز میں اپنے والدین سے علیحدہ کر کے رکھے جا رہے ہیں۔ اس نئی پالیسی کو انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ایسا آج تک کبھی نہیں کیا گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ انھیں بچوں کو اپنے والدین سے جدا کیے جانے سے نفرت ہے اور وہ’امید کرتی ہیں کہ دونوں (ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس) حتمی طور پر مل جل کر کامیاب امیگریشن اصلاحات کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔جبکہ صدر ٹرمپ نے اس پالیسی کے لیے اس قانون کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو ان کے مطابق ‘ڈیموکریٹس نے دی ہیں۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کس قانون کی بات کر رہے ہیں۔انھوں نے اپنے ٹویٹ میں ڈیموکریٹس پر زور دیا ہے کہ وہ ریپبلکنز کے ساتھ مل کر ایک نیا قانون بنائیں۔

بہر حال ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو والدین سے علیحدہ حراست میں رکھنے کی پالییسی کا اعلان گذشتہ ماہ امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کیا تھا اور اس کو روکنے کے لیے کانگریس کے اقدام کی ضرورت نہیں۔اس پالیسی نے ریپبلکنز کو منقسم کر دیا ہے۔ اس پالیسی کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جو والدین بار بار جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ان سے ان کے بچوں کو لے لیا جاتا ہے۔

بچوں کی اضافی حراست میں مبینہ طور پر شیرخوار اور پاؤں پاؤں چلنے والے بچے شامل ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پناہ گاہوں اور پرائے یا سوتیلے گھروں میں جگہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔دریں اثنا حکام نے شہر خیمہ بنانے کے منصوبے کا علان کیا ہے تاکہ ٹیکسس کے ریگستان میں جہاں درجہ حرارت مستقل طور پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے مزید سینکڑوں بچوں کو رکھا جا سکے۔

مقامی قانون ساز جوز روڈریگیز نے اس منصوبے کو مکمل طور پر غیر انسانی اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ‘جو کوئی بھی اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ہے وہ اس کی مذمت کرے گا۔مظاہرین نے اتوار کو ٹیکسس کے ٹورنیلو میں اسی طرح کی ایک آبادی کی جانب ریلی نکالی جہاں سینکڑوں بچے اپنے والدین کے بغیر رہ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…