منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دمشق کے نواح میں داعش کے خلاف لڑائی میں 30 شامی فوجی ہلاک

datetime 8  مئی‬‮  2018 |

دمشق(این این آئی)شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کے ایک جوابی حملے میں 30 سے زیادہ اسدی فوجی ہلاک ہوگئے ۔شامی فوج اپنے اتحادیوں کی مدد سے گذشتہ کئی روز سے دمشق کے جنوب میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ الیرموک اور ایک علاقے الحجر الاسود میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ آزما ہے اور وہاں سے ان کا قبضہ ختم کرانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کررہی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایاکہ گذشتہ ہفتے شامی فوج ان دونوں علاقوں کو آپس میں ملانے والی شاہراہ کو کاٹنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن داعش کے جنگجو جوابی حملہ کر کے اس کو دوبارہ کھولنے میں کامیاب ہوگئے ۔رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان ایک بیان میں کہا کہ داعش کے جنگجو مارو اور بھاگ جاؤ طرز کی کارروائیاں کررہے ہیں اور اس دوران میں انھوں نے 30 شامی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ شامی رجیم کی پیش قدمی سست روی کا شکار ہے ،سرکاری فوجیوں نے بعض ٹھکانوں اور عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے لیکن ہفتے کے روز کے بعد سے انھوں نے کوئی تزویراتی پیش قدمی نہیں کی ہے۔اس وقت شامی فوجیوں کا حجر الاسود کے 60 فی صد حصے پر کنٹرول ہے جبکہ داعش کا الیرموک کیمپ کے 80 فی صد سے زیادہ حصے پر کنٹرول ہے۔رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ شامی فوج ان دونوں جگہوں پر داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری کررہی ہے۔شامی فوج نے دمشق کے نواح میں واقع مشرقی الغوطہ کے علاقے کو مفتوح بنانے کے بعد داعش کے خلاف اپریل کے وسط میں یہ محاذ کھولا تھا۔اس کے بعد سے لڑائی میں ڈیڑھ سو سے زیادہ شامی فوجی اور داعش کے 120 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔ان کے علاوہ 47 شہری بھی اس لڑائی کی نذر ہو گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…