اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

بھارتی چیف جسٹس کو مواخذے کا سامنا،ججز انکوائری ایکٹ 1968 کے تحت کسی بھی جج کیخلاف کتنے ارکان اسمبلی ملکر تحریک پیش کرسکتے ہیں؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی چیف جسٹس دیپک مشرا کو پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مواخذے کا سامنا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق جمعہ کو کانگریس سمیت سات اپوزیشن جماعتوں نے مواخذے کی پٹیشن نائب صدراور راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیانائڈو کے پاس جمع کروادی۔پٹشن پر 71ارکان کے دستخط موجود ہیں۔اگر جسٹس مشرا کے خلاف پٹشن پر کارروائی ہوتی ہے تو یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا۔اس سے پہلے بھارت میں کسی چیف جسٹس کا مواخذہ نہیں ہوا۔

نائب صدر اس پٹیشن کو آگے بڑھانے سے قبل قانونی مشاورت کریں گے۔اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا یہی واحد طریقہ ہے جس کے تحت پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے سنگین معاملا ت کی انکوائری کو یقینی بنا سکتی ہے۔ 2 جنوری کو سپریم کورٹ کے چار ججوں جستی چیلمیشور، رنجن گوگوئی، مدن بی لوکور اور کوریان جوزف نے حیران کن انداز سے عوامی سطح پر اپنی شکایات کا اظہار کیا اور ان ججوں کو سماعت کیلئے مقدمات دینے کے معاملے میں چیف جسٹس انڈیا دیپک مشرا کے رویے پر سوالات اٹھائے تھے۔واضح رہے کہ بھارت کے ججز انکوائری ایکٹ 1968 کے تحت کسی بھی جج کیخلاف شکایت سامنے آنے پر لوک سبھا کے 100 یا راجیہ سبھا کے 50 ارکان تحریک پیش کر سکتے ہیں۔ ارکان کی جانب سے تحریک پیش کیے جانے کے بعد، پرزائیڈنگ افسر تین رکنی کمیٹی تشکیل دیتا ہے جس میں دو ججز ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک جج سپریم کورٹ سے تعلق رکھتا ہے۔اگر شکایت ہائی کورٹ کے جج کیخلاف ہو تو دوسرا جج ہائی کورٹ کا چیف جسٹس ہوتا ہے۔ اور اگر شکایت سپریم کورٹ کے جج کیخلاف ہو تو دونوں جج سپریم کورٹ کے ہوتے ہیں۔ تیسرا رکن ماہر قانون ہوتا ہے جو شکایت کے حوالے سے مکمل تحقیقات کرتا ہے اور اس بات کا تعین کرتا ہے کہ معاملہ مواخذہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…