پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اب تارکین وطن کواپنے پاسپورٹس چھوڑنے یا ضامنوں کو حوالے کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی،اہم خلیجی ملک میں نیا قانون تیار، بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) اب تارکین وطن کواپنے پاسپورٹس چھوڑنے یا ضامنوں کو حوالے کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی،اہم خلیجی ملک میں نیا قانون تیار، بڑا اعلان کردیاگیا،تفصیلات کے مطابق دبئی کے سمارٹ ضمانت نظام کے تحت اب پاسپورٹس کی ضرورت نہیں ہوگی، دبئی کے پراسیکیوٹر جنرل علی حمید بن خاتم نے کہا ہے کہ

مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مشتبہ افراد کو بہت جلد ایک برقی ضمانت مل جائے گی اور انہیں اس مقصد کے لیے دبئی کے پبلک پراسیکیوشن کے پاس اپنے پاسپورٹس چھوڑنے یا ضامنوں کو حوالے کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سمارٹ ضمانت اقدام کے تحت یہ فیصلہ دبئی حکومت کے نظم ونسق کو سمارٹ انداز میں اور بغیر کاغذ کے چلانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ بن خاتم نے مزید بتایا ہے کہ یہ مشتبہ افراد اپنے خلاف قانونی چارہ جوئی کے باوجود اپنے اقاموں اور پاسپورٹس کی تجدید کراسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ہم نے اپنے صارفین کو زیادہ سے زیادہ مطمئن کرنے کے لیے شروع کیا ہے۔ مثال کے طور پر اب ضامنوں کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی اور وہ اپنے پاسپورٹس اپنے پاس ہی رکھ سکیں گے ۔  اب تارکین وطن کواپنے پاسپورٹس چھوڑنے یا ضامنوں کو حوالے کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی،اہم خلیجی ملک میں نیا قانون تیار، بڑا اعلان کردیاگیا، دبئی کے سمارٹ ضمانت نظام کے تحت اب پاسپورٹس کی ضرورت نہیں ہوگی، دبئی کے پراسیکیوٹر جنرل علی حمید بن خاتم نے کہا ہے کہ مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مشتبہ افراد کو بہت جلد ایک برقی ضمانت مل جائے گی اور انہیں اس مقصد کے لیے دبئی کے پبلک پراسیکیوشن کے پاس اپنے پاسپورٹس چھوڑنے یا ضامنوں کو حوالے کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…