اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شمالی کوریا نے کم کے بھائی کے قتل کے لیے زہریلی گیس استعمال کی، امریکہ

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن (سی پی پی )کم جونگ نام شمالی کوریا کے سابق سربراہ کم جونگ ال کے سب سے بڑے بیٹے تھے لیکن اقتدار ان کے چھوٹے بھائی کو مل گیا،امریکی حکام اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کو شمالی کوریا کی حکومت کے حکم پر قتل کیا گیا تھا۔کم جونگ نام 2017 کو ملیشیا کے شہر کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب دو عورتوں نے ان کے چہرے پر وی ایکس نرو ایجنٹ نامی زہر مل دیا تھا۔

ان عورتوں کا کہنا ہے کہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ ایک مزاحیہ ٹی وی شو کے لیے ایسا کر رہی ہیں۔ ان پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نورٹ نے کہا کہ ‘کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بین الاقوامی قواعد کی کھلی خلاف ورزی شمالی کوریا کے غیر محتاط انداز کو مزید عیاں کرتی ہے اور اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ہم شمالی کوریا کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا کوئی بھی پروگرام برداشت نہیں کر سکتے۔امریکہ پہلے بھی الزام لگاتا رہا ہے کہ کم جونگ نام کے قتل کے پیچھے شمالی کوریا کا ہاتھ ہے۔شمالی کوریا اس کی تردید کرتا ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی شمالی کوریا پر بڑے پیمانے پر معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔یہ اعلان اس کے ایک روز بعد ہوا ہے جب جنوبی کوریا کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد شمالی کوریا کے دورے سے واپس آیا ہے۔ وہاں اس نے شمالی کوریا کے سربراہ سے بھی ملاقات کی تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت مثبت ہے اور یہ کہ شمالی کوریا کا یہ عندیہ خوش آئند ہے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دست بردار ہو سکتا ہے تاہم انھوں نے کہا کہ یہ جھوٹی امید بھی ہو سکتی ہے۔کم جونگ نام کو شمالی کوریا کی قیادت نے نظر انداز کر رکھا تھا اور اقتدار ان کے چھوٹے بھائی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت مکاؤ، چین اور سنگاپور میں گزارتے تھے۔انھوں نے شمالی کوریا پر اپنے خاندان کے اقتدار کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور 2012 میں آنے والی ایک کتاب میں لکھا تھا کہ ان کہ ان کے بھائی میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…