اتوار‬‮ ، 24 ‬‮نومبر‬‮ 2024 

’’جنگ کی نجکاری‘‘افغانستان کے بارے میں حیرت انگیز امریکی منصوبہ منظر عام پر آگیا

datetime 14  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل/واشنگٹن(این این آئی)امریکہ میں ایک بڑی نجی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس کی طرف سے افغانستان میں امریکی جنگ کے ایک بڑے حصے کی نجکاری کرنے کی تجویز پر کابل اور واشنگٹن کے بڑے حلقوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے اس تجویز پر بھی غور کر رہے ہیں۔

پرنس کا استدلال ہے کہ یہ تجویز اخراجات کے حساب سے موثر ہے اور اس سے جنگ کا پانسہ پلٹا جا سکتا ہے۔ اس تجویز کے تحت افغان فورسز کو مشاورت فراہم کرنے والے فوجیوں کی جگہ تقریباً پانچ ہزار کنٹرکٹرز کو تعینات کیا جائے گا جنہیں نجی فضائی قوت کی معاونت حاصل ہوگی۔ پرنس کے مطابق یہ کنٹریکٹرز افغان حکام کے زیر کنٹرول ہوں گے۔پرنس کا کہنا تھا کہ یہ سب مرکزی افغان حکومت اور افغان مسلح افواج کے سربراہ کے کنٹرول میں ہوں گے۔ یہ کوئی مقامی ملیشیا نہیں ہے جو بننے جا رہی ہے۔لیکن کئی اہم افغان حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ پرنس کی یہ نجی فوج احتساب سے بالا ہوگی اور ان کے بقول اس اقدام سے بلیک واٹر کے کارندے ویسے ہی مظالم ڈھا سکتے ہیں جو انھوں نے گزشتہ دہائی میں عراق اور افغانستان میں کیے۔افغان حکومت نے تاحال اس تجویز پر سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن ایک سینیئر افغان دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے قانونی پیچیدگیاں ہیں اور یہ امریکہ کے ساتھ ہمارے باہمی سکیورٹی معاہدوں پر سوالات اٹھاتا ہے۔اس وقت افغانستان میں لگ بھگ نو ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن کی اکثریت جنگ کی بجائے افغان فورسز کی تربیت میں مصروف ہے۔ امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحادی افواج کا افغانستان میں لڑاکا مشن 2014ء میں ختم ہو چکا ہے۔

اس کے بعد سے سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی افغان فورسز کو طالبان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا رہا ہے اور کئی علاقے سرکاری کنٹرول سے نکل ہو چکے ہیں۔ کابل کی حکومت اس وقت ملک کے نصف سے تھوڑے زیادہ حصے پر عملداری رکھتی ہے۔پینٹاگان کے اعلیٰ عہدیداران بشمول وزیردفاع جم میٹس اب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ جنگ جیتی نہیں جا رہی۔

افغانستان میں بھی ایک وسیع حلقہ اس تجویز پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہا ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ٹوئٹر پر کہا کہ وہ سختی سے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کے بقول یہ افغانستان کی قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے۔افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ شہریوں کے مزید غصے کا باعث بنے گا جس سے طالبان کو اپنے لیے لوگ بھرتی کرنے میں مدد ملے گی۔

موضوعات:



کالم



شیطان کے ایجنٹ


’’شادی کے 32 سال بعد ہم میاں بیوی کا پہلا جھگڑا…

ہم سموگ سے کیسے بچ سکتے ہیں (حصہ دوم)

آب اب تیسری مثال بھی ملاحظہ کیجیے‘ چین نے 1980ء…

ہم سموگ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

سوئٹزر لینڈ دنیا کے سات صاف ستھرے ملکوں میں شمار…

بس وکٹ نہیں چھوڑنی

ویسٹ انڈیز کے سر گارفیلڈ سوبرز کرکٹ کی چار سو…

23 سال

قائداعظم محمد علی جناح 1930ء میں ہندوستانی مسلمانوں…

پاکستان کب ٹھیک ہو گا؟

’’پاکستان کب ٹھیک ہوگا‘‘ اس کے چہرے پر تشویش…

ٹھیک ہو جائے گا

اسلام آباد کے بلیو ایریا میں درجنوں اونچی عمارتیں…

دوبئی کا دوسرا پیغام

جولائی 2024ء میں بنگلہ دیش میں طالب علموں کی تحریک…

دوبئی کاپاکستان کے نام پیغام

شیخ محمد بن راشد المختوم نے جب دوبئی ڈویلپ کرنا…

آرٹ آف لیونگ

’’ہمارے دادا ہمیں سیب کے باغ میں لے جاتے تھے‘…

عمران خان ہماری جان

’’آپ ہمارے خان کے خلاف کیوں ہیں؟‘‘ وہ مسکرا…