جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟‘‘

datetime 31  مارچ‬‮  2017 |

بیروت(آن لائن)انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں عدالت نے ایک نامور معلم کو ٹوئٹر پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنانے پر دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔بیروت میں قائم ایمنیسٹی انٹرنیشل کے علاقائی دفتر کا کہنا ہے کہ ناصر بن غیث کو ’ریاست اور اس کے ایک ادارے کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچانے کے غرض سے غلط معلومات‘ ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس کے ذریعے پھیلانے کے جرم کا

مرتکب قرار دیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایک گذشتہ مقدمے میں ان کو انصاف نہیں مہیا کیا گیا تھا۔ فرا نسیسی خبررساں ادارے کے مطابق ناصر بن غیث کو سزا کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک اور انسانی حقوق کے کارکن احمد منصور کو دو ہفتے سے بھی کم وقت پہلے گرفتار کیا گیا ہے۔احمد منصور کا شمار متحدہ عرب امارات کے ان پانچ کارکنوں میں ہوتا ہے جنھیں اپریل 2011 میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم ایک سال بعد صدارتی معافی کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔ان پانچوں پر آن لائن اماراتی رہنماؤں کو رسوا کرنے، حکومت مخالف اشتعال انگیزی اور وفاقی قومی کونسل کے انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرنے الزامات ہیں۔ناصر بن غیث کو اگست 2015 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا جس کے بارے میں ایمنیسٹی انٹرنیشل کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ان کے وہ ٹویٹس تھے جس میں انھوں نے سنہ 2011 میں گرفتاری کے بعد مقدمے کی منصفانہ سماعت کا حق نہ ملنے کا ذکر کیا تھا۔ناصر بن غیث نے آخری بار اگست 2015 میں ٹویٹس کیے تھے جن میں عرب دنیا کی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔دوسری جانب احمد منصور کو متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قانون کے تحت رواں ماہ دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا ضبط کر لیا گیا ہے جبکہ صدارتی معافی کے باوجود ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…