بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی قومی سلامتی کامشیر روس اور ترکی سے کیا کچھ حاصل کرتارہا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 17  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی )مریکہ کے مستعفی ہونے والے قومی سلامتی کے مشیر اور فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلن کو روسی کمپنیوں کی طرف سے مبینہ طور تقریبا 68 ہزار ڈالر ادا کیے گئے،اس میں سے45 ہزار 386ڈالر آر ٹی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی بطور فیس ادا کی گئی۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ بات حال ہی میں جاری ہونے والی نئی دستایزات میں سامنے آئی ہے کہ مستعفی ہونے والے قومی

سلامتی کے مشیر اور فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلن کو روسی کمپنیوں کی طرف سے مبینہ طور تقریبا 68 ہزار ڈالر ادا کیے گئے اس میں سے ایک بڑا حصہ 45,386 ڈالر کی وہ رقم تھی جو کریملن کی مالی معاونت سے چلنے والے ‘آر ٹی’ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی طرف سے مبینہ طور پر بطور فیس ادا کی گئی تھی۔فلن نے آڑ ٹی کی دسویں سالگرہ کے تقریبات کی تشہیر کرنے کے لیے ماسکو کو دورہ کیا تھا۔اس دورے کے دوران انہوں نے ایک عشائیہ میں بھی شرکت کی تھی جس میں وہ روسی صدر ولادیمر پوٹن کے ساتھ ایک میز پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔اس کے علاوہ فلن کو 11,250 ڈالر کی مزید دو مساوی رقوم بھی ملی تھیں جن میں سے ایک سائبر سکیورٹی سے متعلق ایک روسی کمپنی کی امریکی شاخ جب کہ دوسری روسی فضائی کمپنی ‘ولگا دنپرسے ملی تھی۔فلن کو ٹرمپ کی مہم کے دوران ترکی کی طرف سے لابی کرنے کے لیے 53 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ٹرمپ نے منصب صدارت سنبھالنے سے پہلے فلن کو قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا تاہم جب انہیں مستعفی ہونے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے صرف 24 دن تک اس عہدے پر کام کیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فلن محض ان کے روس اور ترکی سے رابطوں کی وجہ سے ہی مستعفی ہونے کے لیے نہیں کہا گیا تھا، بلکہ انھوں نے امریکہ میں روس کی سفیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے

متعلق نائب صدر مائیک پینس سے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔فلن کو ملنے والی روسی رقوم سے متعلق انکشاف میری لینڈ سے ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ رکن کمنگز نے کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…