بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان باز نہ آیا،پاکستان پر سنگین الزام عائد،متحدہ عرب امارات نے افغان حکومت کو ذمہ دارقراردیدیا

datetime 27  فروری‬‮  2017 |

کابل/واشنگٹن (آئی این پی)افغان وزارت داخلہ نے الزام عائد کیا ہے کہ قندھار میں متحدہ عرب امارات کے سفارتکاروں پر حملے کا منصوبہ پاکستان میں بنایا گیا تھا۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ ترجمان صدیق صدیقی کاکہنا ہے کہ حملے کا منصوبہ چمن کوئٹہ میں مولوی احمد کے مدرے میں بنایا گیا تھا

۔10جنوری کو قندھار میں گورنر کے کمپاؤنڈ میں ہونے والے بم دھماکے میں متحدہ عرب امارات کے 5سفارتکار جاں بحق اور سفیر زخمی ہوگئے تھے جو بعد ازاں چند روز قبل ابوظہی کے ایک ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے ۔متحدہ عرب امارات کے سفارتکار اور سفیر جمعہ محمد عبداللہ الکبی گورنر کے کمپاؤنڈ میں ایک ڈنر میں شریک تھے ۔ اس حملے کی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ طالبان نے ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔دھماکے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتکاروں کی ہلاکت کے بعد افغانستان اور بھار ت نے پاکستان کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے پراپیگنڈا شروع کردیاتھا جس سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات متاثر ہونے کاخدشہ پیدا ہوگیا تھا عرب امارات کے سفارتکار اور سفیر جمعہ محمد عبداللہ الکبی گورنر کے کمپاؤنڈ میں ایک ڈنر میں شریک تھے ۔ اس حملے کی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ طالبان نے ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔دھماکے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتکاروں کی ہلاکت کے بعد افغانستان اور بھار ت نے پاکستان کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے پراپیگنڈا شروع کردیاتھا جس سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات متاثر ہونے کاخدشہ پیدا ہوگیا تھا لیکن بعد میں یواے ای نے واضح اعلان کردیا اور متحدہ عرب امارات کے سینئر پولیس حکام نے قندھار میں بم دھماکے کا ذمہ دار افغان حکومت کو قراردیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…