پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

جنگی جنون میں مبتلابھارت کی بحریہ کو بڑے بحران کاسامنا

datetime 14  فروری‬‮  2017 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) جنگی جنون میں مبتلابھارت کی بحریہ اس وقت بہت بڑے بحران کاسامناہے ۔بھارت نے 1995میں اپنی بحریہ کےلئے ایسے جہازبنانے کافیصلہ کیاتھاجوکسی بھی بحری جہازسے اُڑان بھرسکیں اورکم فاصلے پرلینڈنگ کرسکیں ۔اس مسئلے کوحل کرنے کےلئے بھارت نے مقامی طوپرلڑاکاطیارے بنانے کےلئے ’’ایل سی اے تیجاز‘‘دفاعی تحقیقاتی منصوبہ شروع کیاوہ33سال بعد بھی ناکامی کاشکارہے

اوراس منصوبے کے تحت بنائے گئے طیاروں کوبھارتی بحریہ نے فضول قراردیتے ہوئے غیرملکی طیاروں کے لئے بھارتی حکومت سے درخواست کردی ۔گزشتہ سال بھارتی بحریہ کے سربراہ سنیل لانبانے بھارتی حکومت کوواضح طورپربتادیاتھاکہ مقامی سطح پرتیارکئے جانے والے طیارے اس قابل نہیں ہیں کہ وہ لڑائی کے دوران اپنے اہداف کوحاصل کرسکیں اوربھارتی بحریہ کوغیرملکی جدید طیاروں کی ضرورت ہے ۔سنیل لانبانے کہاتھاکہ بھارتی دفاعی ادارے ’’ایل سی اے تیجاز‘‘کے طیارے بھارتی بحریہ کے جہازوں کے ڈیزائن پرپورانہیں اُترتے ہیں جس کے بعد بھارت نے فوری طورپراس کمی کوپوراکرنے کےلئے غیرملکی دفاعی سامان تیارکرنے والی کمپنیوں سے رابطے کرناشروع کردیئے جس کے بعد کئی ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے نے بھارت کوجدیدہتھیاردینے کی پیشکشیں کرچکے ہیں لیکن بھارت نے جومنصوبہ مقامی سطح پرطیارے بنانے کےلئے بڑی شان وشوکت سے شروع کیاتھااس پراس کی اپنی فوج بلکہ غیرملکی دفاعی ادارو ںنےشدیدتنقید اوراعتراضات کئے ہیں کہ بھارت کایہ منصوبہ مکمل طورپرناکام ہے کیونکہ بھارتی حکومت اس منصوبے پر33سالوں میں ایک ارب امریکی ڈالرز سے زائدخرچ کرچکی ہے لیکن اپنی تیکنیکی،دفاعی خرابیوں اور بھارتی انجینئرزکی خراب کارکردگی کی وجہ سے اس منصوبے کےلئے مختص فنڈزسے زیادہ خرچ آچکاہے جبکہ ابھی تک بھارتی بحریہ کویہ طیارے اس معیارکے نہیں ملے ہیں جوکہ ملناچاہیے تھے

جبکہ بین الاقوامی سطح پربھارتی کے اس ’’ایل سی اے تیجاز‘‘منصوبے کامذاق اُڑایاجارہاہے اوربھارت کے سفیدہاتھی کانام دیاجارہاہے ۔دوسری طر ف بھارتی حکومت نے اپنی عزت بچانے کےلئے اپنی بحریہ کو57طیاروں کی بجائے 16طیارے دے کرچپ بھی کرادیاہے ۔عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت اس منصوبے سے جوطیارے بنابھی چکاہے وہ صرف کسی نمائش کوسجانے کےلئے تواچھے ہیں لیکن دشمن کےلئے وہ کوئی خطرہ نہیں ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…