اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

سخت ترین قوانین ہونے کے باوجود سعودی عرب میں ہر روزایک جیسی 38وارداتیں، پولیس بے بس،حیرت انگیزانکشافات

datetime 6  فروری‬‮  2017 |

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں چوری کے سخت ترین قوانین کے باوجود گاڑیوں کی چوری کاسلسلہ جاری ہے ۔سعودی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں روزانہ 38گاڑیوں کاچوری ہوناایک معمول بن گیاہے لیکن سعودی پولیس ان چوری ہونے والی گاڑیوں میں بہت کم بازیاب کراسکی ہے ۔

سعودی وزارت داخلہ نے اپنی رپورٹ میں مزیدکہاہے کہ ان چوری شدہ گاڑیوں کے بارے میں حکام کویہ خدشہ رہتاہے کہ یہ گاڑیاں کہیں کسی دہشتگردی کی واردات میں استعمال نہ ہوجائیں جوکہ اس وقت دنیامیں ایک بڑاخطرہ ہے ۔وزارت کی طرف سے گزشتہ سال 2016کے اعدادوشمارکے مطابق صرف جنوری میں 1341گاڑیاں چوری ہوئیں ،ریاض ،جدہ ،مکہ ،مدینہ ،تبوک اوردمام میں گاڑیوں کی چوری کی سب سے زیادہ وارداتیں ہوئیں جبکہ اس سے قبل 2014میں 15ہزارسے زائدگاڑیاں چوری ہوئیں اور 2013میں چوری ہونے والی گاڑیوں کی تعداد9ہزاررہی اوران میں سے پولیس نے 4600کے قریب گاڑیاں بازیاب کروالی تھیں ۔سعودی وزارت کی رپورٹ کے مطابق چوری شدہ گاڑیوں کودوسرے شہروں میں پارٹس کی شکل میں فروخت کردیاجاتاہے اورجرائم پیشہ افراد گاڑیوں کودوسرے شہروں میں منتقل کرنے کےلئے نمبرپلیٹس بھی تبدیل کردیتے ہیں ۔سعودی عرب کے معروف ادارے پرنس فائف فارسکیورٹی سائنس کی ایک رپورٹ کے مطابق گاڑی کی چوری کی وارداتوں میں زیادہ تربے روزگارافراد ملوث ہیں جبکہ گاڑیوں کی دوڑکے شوقین بھی اس دھندے میں ملوث ہیں ۔رپورٹ کے مطابق گاڑیاں چوری ہونے کی ایک وجہ مالکان کی غفلت جبکہ دوسری وجہ کمزورمانیٹرنگ سسٹم کوقراردیاگیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…