پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

تل ابیب میں نئی تاریخ رقم،عرب اور یہودی اکٹھے ہوگئے

datetime 6  فروری‬‮  2017 |

تل ابیب (آئی این پی )اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں عربوں اور یہودیوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مکانوں کو مسمار کرنے کی پالیسی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عربوں کے مکانوں کو ڈھانے کا سلسلہ بند کردے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں مظاہرے میں قریبا ایک ہزار افراد نے حصہ لیا ہے۔

انھوں نے عبرانی اور عربی زبان میں لکھے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر یہ لکھا تھا کہ ’’یہود اور عرب ایک ہیں‘‘۔بائیں بازو کی حزب اختلاف کی جماعت میرتز اور عرب جماعتوں کے اتحاد سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان اس حکومت مخالف مارچ کی قیادت کررہے تھے۔اسرائیلی عربوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت ان کی بلا لائسنس تعمیرات کے خلاف کریک ڈان محض یہودی آباد کاروں کو ممنون کرنے کے لیے کررہی ہے۔ یہ یہودی آباد کار مغربی کنارے میں واقع اپنی ایک بستی امونا کو مسمار کرنے کے حکم کے خلاف غصے میں ہیں اور وہ حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیلی حکومت اپنے زیر قبضہ علاقوں میں صدیوں سے آباد فلسطینی عربوں کو نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے ایک پالیسی کے تحت اجازت نامے جاری نہیں کرتی ہے لیکن اگر وہ اپنے طور پر اپنی ہی اراضی پر مکان تعمیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں مسمار کردیا جاتا ہے۔گذشتہ ماہ اسرائیل کے جنوب میں واقع عربوں کے ایک گاں ام الحیران میں اسرائیلی پولیس کی کارروائی کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔اسرائیلی پولیس وہاں عربوں کے مکانوں کو ڈھانے کی کارروائی کی نگرانی کے لیے گئی تھی۔اس دوران میں ایک پولیس اہلکار پر اسرار حالات میں ہلاک ہوگیا تھا اور پولیس نے جواب میں ایک عرب شہری کو گولی مار دی تھی۔

پولیس نے اس واقعے کی یہ کہانی بیان کی تھی کہ پچاس سالہ دیہاتی یعقوب ابو القیان نے پولیس اہلکاروں پر اپنی گاڑی چڑھا دی تھی جس سے ایک اہلکار مارا گیا تھا۔اس کے ردعمل میں پولیس نے اس کو گالی مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا۔اسرائیلی پولیس نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ یہ عرب اسلامی تحریک میں متحرک تھا اور وہ مبینہ طور پر داعش سے اثرانداز ہوا تھا لیکن گاؤں کے مکینوں نے اس خود ساختہ دعوے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ مقتول ایک معزز استاد تھا۔میرتز کی رکن پارلیمان مشعل روزن نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کے ارکان کو متبادل حقائق وضع کرنے پر فخر ہے۔وہ ایسا جہالت کی بنا پر نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے خوف ،نسل پرستی اور منافرت پر مبنی متبادل بیانیہ وضع کررہے ہیں۔اسرائیلی عرب ان فلسطینیوں کی اولاد ہیں جو 1948 میں ریاست اسرائیل کی فلسطینی سرزمین پر تخلیق کے وقت اپنے آبائی علاقوں ہی میں آباد رہے تھے اور انھوں نے مہاجرت کی زندگی اختیار کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اب ان کی آبادی اسرائیل کی کل آبادی کا 17.5 فی صد ہوچکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست ان کے ساتھ منظم انداز میں امتیازی سلوک کررہی ہے اور اس نے نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے اجازت ناموں کا حصول عملا ناممکن بنا دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے مطابق نئے مکان تعمیر نہیں کر سکتے ہیں اور اگر وہ نام نہاد اسرائیلی حکام سے اجازت لیے بغیر مکانوں کو تعمیر کرتے ہیں تو انھیں ہمیشہ ان کی مسماری کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…