اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

چین مستقبل میں گوادر میں کیا کرے گا؟بھارت کیوں خوفزدہ ہے؟سویڈن کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ،بڑادعویٰ کردیا

datetime 3  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد/سویڈن(آئی این پی)سویڈن کے معروف تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ(سپری) نے کہا ہے کہ چین کاسی پیک کے تحت پاک چین اقتصادی راہداری پر انحصار کا مقصد پاکستان کو خوشحال اور مستحکم ملک دیکھنا ہے ۔سپری کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ ویژن کا علمبردار منصوبہ پاکستان کو اپنی معیشت تیزی سے بڑھانے میں انتہائی مددگار ہوگا ۔

سی پیک منصوبہ کے خلاف بھارتی موقف کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعہ کشمیر کا بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہونا اور بحیرہ ہند میں چین کا بڑھتا اثرورسوخ بھارت کے تحفظات کا باعث ہے ۔بھارت میں اس نقطہ پر غور کیا جا رہا ہے کہ چین 1963سے کشمیر کے حوالے سے غیر جانبدار رہا ہے تاہم اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ چین کے معاشی اور سیکیورٹی مفادات خطے میں بڑھتے جا رہے ہیں ۔بھارت کبھی بھی علاقائی تنازعات میں چین کو مصالحت کار کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا ۔سی پیک کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین سفارتی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے ۔بھارت سختی سے سی پیک کی مخالفت کرتا ہے جبکہ معاشی راہداری کسی بھی نئے تنازعہ کا پیش خیمہ نہیں ہے ۔ بھارت میں سی پیک کے حوالے سے حقیقی اور تصوراتی اعتراضات موجود ہیں ۔حقیقی خدشہ یہ ہے کہ بھارت تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر نہیں کرنا چاہتا ۔چین کی ان علاقوں میں سرگرمیاں کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر رہی ہیں ۔بھارت میں سی پیک کے حوالے سے تصوراتی اعتراض یہ ہے کہ چین بحیرہ ہند میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ چین کسی بھی وقت علاقے میں تجارتی مرکز کو فوجی مقاصد کیلئے بھی استعمال کر سکتا ہے ۔ بھارت میں یہ خدشہ بھی ہے کہ چین گوادر کی بندرگاہ کو بھارت کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے استعمال کرے گا جبکہ اس طرح چینی بحریہ کی موجودگی کو بھی وسعت ملے گی ۔

بھارت کو یہ خدشہ بھی ہے کہ سی پیک قلیل المدتی اور درمیانی مدت کا منصوبہ ہے جس سے پاکستان میں روزگار کے بے تحاشا مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی شرح نمو کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ مستقبل میں علاقائی توازن چین کے حق میں ہوگا اور بھارتی جیوپولیٹیکل رسائی محدود ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…