ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

دہشتگردی کے الزام میں بڑی تعداد میں پاکستانی سعودی عرب میں قید ،تفصیلات جاری

datetime 20  جنوری‬‮  2017 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب نے کہاہے کہ ان کے ملک میں میں گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان سمیت چالیس ملکوں کے شہری دہشت گردی کی سرگرمیوں اور سکیورٹی سے متعلق کیسوں میں ملوّث پائے گئے ،عرب ٹی وی کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے اپنے ویب پورٹل تواصل کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس وقت 5085 افراد پانچ انٹیلی جنس جیلوں میں زیر حراست یا قید ہیں۔ان میں سے بعض مشتبہ افراد عدالت کی جانب سے سزا ملنے کے بعد قید کاٹ رہے ہیں اور خصوصی فوجداری اپیل عدالت نے بھی ان کی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا۔

عرب ٹی وی کے مطابق بعض کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں اور باقی مشتبہ افراد ادارہ تحقیقات اور استغاثہ کے زیرِتفتیش ہیں۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت 4254 سعودی شہری مملکت کی انٹیلی جنس جیلوں میں قید ہیں اور یہ ایک وقت میں زیر حراست مشتبہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان کے بعد یمنیوں کا نمبر ہے اور ان کی تعداد 282 ہے۔زیر حراست شامیوں کی تعداد 218 ہے۔ امریکا سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ افراد اور فرانس ، بیلجیئم اور کینیڈا کا ایک ایک شہری سعودی عرب میں قید یا زیر حراست ہے۔عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے مشتبہ زیر حراست افراد میں 57 مصری ،29 سودانی ، 21 فلسطینی ،سات صومالی ،پانچ عراقی ،تین لبنانی ،دو مراکشی ،19 اردنی ،دو موریتانی ،دو اماراتی ،10 بحرینی ،دو قطری اور لیبیا اور الجزائر کا ایک ایک شہری ہے۔سعودی عرب میں زیر حراست یا قید مشتبہ غیرملکیوں میں ایک چینی ،تین فلپائنی ،19 بھارتی ،68 پاکستانی ،چھے ایرانی ،سات افغان ،چار ترک ،چار بنگلہ دیشی ہیں اور ایک کا تعلق کرغیزستان سے ہے۔افریقی ملک چاڈ سے تعلق رکھنے والے 17 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں۔ان کے علاوہ ایتھوپیا کے تین ،نائیجیریا کے چار ،مالی کے دو اور انگولا ،بورکینا فاسو اور جنوبی افریقہ کا ایک ایک شہری سعودی عرب میں مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیر حراست یا قید ہے۔ یہ تمام زیر حراست افراد تواصل کے ذریعے اپنے خاندانوں اور رشتے داروں سے سمعی اور بصری رابطے کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…