ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

دہشتگردی کے الزام میں بڑی تعداد میں پاکستانی سعودی عرب میں قید ،تفصیلات جاری

datetime 20  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریاض(این این آئی)سعودی عرب نے کہاہے کہ ان کے ملک میں میں گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان سمیت چالیس ملکوں کے شہری دہشت گردی کی سرگرمیوں اور سکیورٹی سے متعلق کیسوں میں ملوّث پائے گئے ،عرب ٹی وی کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے اپنے ویب پورٹل تواصل کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس وقت 5085 افراد پانچ انٹیلی جنس جیلوں میں زیر حراست یا قید ہیں۔ان میں سے بعض مشتبہ افراد عدالت کی جانب سے سزا ملنے کے بعد قید کاٹ رہے ہیں اور خصوصی فوجداری اپیل عدالت نے بھی ان کی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا۔

عرب ٹی وی کے مطابق بعض کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں اور باقی مشتبہ افراد ادارہ تحقیقات اور استغاثہ کے زیرِتفتیش ہیں۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت 4254 سعودی شہری مملکت کی انٹیلی جنس جیلوں میں قید ہیں اور یہ ایک وقت میں زیر حراست مشتبہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان کے بعد یمنیوں کا نمبر ہے اور ان کی تعداد 282 ہے۔زیر حراست شامیوں کی تعداد 218 ہے۔ امریکا سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ افراد اور فرانس ، بیلجیئم اور کینیڈا کا ایک ایک شہری سعودی عرب میں قید یا زیر حراست ہے۔عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے مشتبہ زیر حراست افراد میں 57 مصری ،29 سودانی ، 21 فلسطینی ،سات صومالی ،پانچ عراقی ،تین لبنانی ،دو مراکشی ،19 اردنی ،دو موریتانی ،دو اماراتی ،10 بحرینی ،دو قطری اور لیبیا اور الجزائر کا ایک ایک شہری ہے۔سعودی عرب میں زیر حراست یا قید مشتبہ غیرملکیوں میں ایک چینی ،تین فلپائنی ،19 بھارتی ،68 پاکستانی ،چھے ایرانی ،سات افغان ،چار ترک ،چار بنگلہ دیشی ہیں اور ایک کا تعلق کرغیزستان سے ہے۔افریقی ملک چاڈ سے تعلق رکھنے والے 17 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں۔ان کے علاوہ ایتھوپیا کے تین ،نائیجیریا کے چار ،مالی کے دو اور انگولا ،بورکینا فاسو اور جنوبی افریقہ کا ایک ایک شہری سعودی عرب میں مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیر حراست یا قید ہے۔ یہ تمام زیر حراست افراد تواصل کے ذریعے اپنے خاندانوں اور رشتے داروں سے سمعی اور بصری رابطے کرسکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…