ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب اب اپنے سرکاری اداروں کے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟حیرت انگیز اعلان کردیاگیا

datetime 20  جنوری‬‮  2017 |

ڈیووس(آئی این پی)سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے کہا ہے کہ مملکت کے وژن 2030 کے مقاصد واہداف کے حصول میں سرکاری شعبوں میں سرمایہ کاری اور ان کی نج کاری ترجیحی عوامل ہیں، مملکت کی اقتصادی ترقی میں نوجوان آبادی اور خواتین کو نمایاں اہمیت حاصل ہے،ترقی کے عمل میں ان کی شمولیت کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔وہ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں سعودی عرب کے اصلاحات کے پروگرام پر ہونے والے پینل میں گفتگو کررہے تھے۔

اس پینل کے میزبان عالمی اقتصادی فورم کے مینجنگ ڈائریکٹر فلپ روسلر تھے۔اس میں وزیر توانائی کے علاوہ سعودی عرب کے وزیرخزانہ اور تجارت نے اظہار خیال کیا۔بلیک راک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لارنس ڈی فنک اور ڈا کیمیکل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو این لیوریس نے بھی سعودی معیشت کے مختلف پہلوں کے بارے میں گفتگو کی ہے۔سعودی عرب کے تینوں وزر نے معیشت کو حکومت کے کنٹرول سے آزاد کرنے اور اس کو منڈی کی ضروریات کے مطابق بنانے کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔وزیر توانائی خالد الفالح نے سعودی معیشت اور وژن 2030 کے نمایاں خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے نتیجے میں ایک مختلف سعودی عرب ظہور پذیر ہوگا اور برسرزمین تو یہ عمل پہلے ہی رونما ہورہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کو ایک شائستہ اور نرم جگہ بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لیے رواداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔وزیر خزانہ محمد الجدعان نے پینل میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے اپنے معاملات میں زیادہ قابل احتساب اور شفاف ہونے کا عزم کررکھا ہے۔وہ اپنے بہت سے سیکٹرز کو نجی شعبے کے حوالہ کررہا ہے اور ان میں تنوع لا رہا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ہماری قیادت کی جانب سے تمام وزارتوں کو اپنے اہداف کے حصول کے عمل میں شفافیت اور احتساب اور افسر شاہی کو محدود کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ڈا کیمیکل کے سی ای او اینڈریو این لیوریس نے اس موقع پر کہا کہ وہ گذشتہ پندرہ سال سے سعودی عرب جارہے ہیں لیکن اس دوران میں ان کے لیے شفافیت کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہی ہے۔انھوں نے کہا:میں اس امر کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ اگر ہم امریکا میں اپنے تجربے کا سعودی عرب سے موازنہ کریں تو سعودی مملکت میں مکمل شفافیت ہے۔یہ اس سے بھی واضح ہے کہ ہمارے اس ملک سے اربوں ڈالرز کے سودے ہوتے ہیں۔سعودی وزر کا کہنا تھا کہ وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے نجی شعبے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت سے انفرا اسٹرکچر ، صحت عامہ اور تعلیم کے شعبوں میں متعدد منصوبے شروع کیے جائیں گے اور ان کا مستقبل قریب میں اعلان کردیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…